نیٹو وزرائے خارجہ اجلاس ختم۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال اہم موضوع بن گئی

ایران پر دباؤ، دفاعی اخراجات میں اضافے اور عالمی تجارت کے تحفظ پر زور

May 23, 2026 · بام دنیا

نیٹو کا پرچم

نیٹو کے وزرائے خارجہ نے سویڈن میں ہونے والا دو روزہ اجلاس ختم ہوگیا، جس میں جولائی میں انقرہ میں ہونے والے سربراہی اجلاس سے قبل فوجی اتحاد کے بنیادی سکیورٹی اہداف کو حتمی شکل دی گئی۔

اجلاس میں زیادہ تر توجہ دفاعی صنعتی صلاحیت بڑھانے اور نیٹو رکن ممالک کیلئے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 5 فیصد دفاع پر خرچ کرنے کے ہدف پر رہی، تاہم آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی بھی اہم موضوعات میں شامل رہی۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز بند کرکے عالمی معیشت کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ضروری ہے کہ ممالک مل کر ایسے اقدامات کریں جن سے آبنائے ہرمز جہاز رانی کیلئے کھلی رہے، جس کیلئے خطے میں اہم وسائل منتقل کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ نے واشنگٹن اور اس کے کئی یورپی اتحادیوں کے درمیان سیاسی اختلافات بھی نمایاں کر دیے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ نیٹو اتحادی اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہییں، تاہم جب ٹرمپ انتظامیہ نے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا تو بہت کم ممالک نے ساتھ دیا۔