حاجیوں کی منی، عرفات اور مزدلفہ لے جانے کیلئے ٹرین سروس شروع

ایک گھنٹے میں 72 ہزار مسافروں کی گنجائش، 2 ہزار سفر کیے جائیں گے

May 25, 2026 · بام دنیا

سعودی حکومت نے حج مزید آسان کر دیا۔امسال مکہ مکرمہ میں فریضہ حج کے ادائیگی میں مصروف زائرین منیٰ، عرفات اور مزدلفہ کا سفر بسوں کے بجائے ایک نئی شروع ہونے والی ٹرین پر کریں گے۔
اس ٹرین نے اتوار کو اپنا پہلا سفر کیا ہے ہر ٹرین میں 3 ہزار افراد کی گنجائش ہے اور ٹرین سروس ایک گھنٹے میں 72 ہزار حاجیوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر سکتی ہے۔ مجموعی طور پر 20 لاکھ حاجیوں کیلئے 2 ہزار مرتبہ ٹرین چلائی جائے گی۔ سعودی گزٹ کے مطابق اس سے پہلے 50 ہزار مرتبہ بسیں چلائی جاتی تھیں جن کی اب ضرورت نہیں رہے گی۔

المشاعر میٹرو نے حج 2026 کے لیے اپنی پہلی سروس کا آغاز کیا ہے، جو منیٰ، عرفات اور مزدلفہ کے مقدس مقامات کو 9 اسٹیشنز کے ذریعے آپس میں جوڑتی ہے۔
ہر ٹرین میں 3 ہزار تک مسافروں کی گنجائش ہے جبکہ پورے نظام کی مجموعی آپریشنل صلاحیت 72 ہزار مسافر فی گھنٹہ ہے۔
اس سال کے منصوبے کے تحت 2 ہزار سے زائد ٹرپس کے ذریعے 20 لاکھ سے زیادہ عازمین کو سہولت فراہم کی جائے گی، جس سے 50 ہزار سے زائد بس سفر کی ضرورت کم ہو جائے گی۔
سعودی ریلوے نے موسم حج سے قبل 17 ٹرینوں کے بیڑے کی مکمل تیاری اور مرمت کا کام مکمل کیا ہے، جس میں سگنلنگ، کمیونیکیشن سسٹم اور کنٹرول سینٹر کی اپ گریڈیشن بھی شامل ہے۔
یہ منصوبہ سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت ایک محفوظ، جدید اور اسمارٹ ٹرانسپورٹ نظام کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد عازمین کو آسان اور محفوظ سفر کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
الیکٹرک ٹرین منیٰ، مزدلفہ اور عرفات کو آپس میں جوڑتی ہے، جس سے سفر کا وقت کم ہوتا ہے، ٹریفک کا دباؤ کم ہوتا ہے اور بھیڑ کو مؤثر انداز میں منظم کیا جاتا ہے۔ یہ نظام 2010 میں دو سال کی تعمیر کے بعد شروع کیا گیا تھا اور تب سے حجاج کی آمدورفت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ لائن 18 کلومیٹر پر محیط ہے اور اس میں 9 اسٹیشنز شامل ہیں، جن میں عرفات، مزدلفہ اور منیٰ کے تین تین اسٹیشنز اور جمرات اسٹیشن بھی شامل ہے۔ ٹرین 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے اور عرفات سے منیٰ کا سفر تقریباً 20 منٹ میں مکمل کرتی ہے۔
ہر ٹرین 277 میٹر لمبی ہے اور 3 ہزار مسافروں کو لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مجموعی طور پر نظام کی گنجائش 72 ہزار مسافر فی گھنٹہ ہے، جو دنیا کے بڑے ٹرانسپورٹ سسٹمز میں شمار ہوتا ہے۔
اس منصوبے کے باعث مقدس مقامات کی طرف جانے والی ہزاروں بس ٹرپس کم ہو گئی ہیں، جس سے ٹریفک میں کمی اور ماحول دوست نظام کے تحت کاربن کے اخراج میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔