پی آئی اے نجکاری:پاکستان، امریکہ، بھارت، ہالینڈ میں پی آئی اے کی 12 اہم املاک نئے مالکان کے حوالے کرنے کا فیصلہ
یہ اقدام قومی ایئرلائن پر مالی بوجھ کم کرنے اور اس کے آپریشنز کو فعال بنانے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔
فائل فوٹو
اسلام آباد: حکومتِ پاکستان کے جاری ری اسٹرکچرنگ اور نجکاری پروگرام کے تحت پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی ملکیت میں شامل ملکی و غیر ملکی 12 اہم ترین املاک کو نئے مالکان کے سپرد کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ یہ اقدام قومی ایئرلائن پر مالی بوجھ کم کرنے اور اس کے آپریشنز کو فعال بنانے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نجکاری کے اس عمل میں منتقل کیے جانے والے اثاثوں کے پورٹ فولیو میں انتہائی قیمتی اور تزویراتی (اسٹریٹجک) لحاظ سے اہم املاک شامل ہیں۔ ان میں امریکا، نیدرلینڈز (ہالینڈ) اور بھارت میں موجود پی آئی اے کی ہائی ویلیو بین الاقوامی جائیدادیں شامل ہیں، جو ماضی میں ایئرلائن کے عالمی نیٹ ورک اور اثاثوں کا اہم حصہ رہی ہیں۔
بین الاقوامی املاک کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بڑے اور اہم کاروباری شہروں میں واقع پی آئی اے کے مرکزی کمرشل اور سیلز دفاتر بھی اس فہرست کا حصہ ہیں، جنہیں نئے مالکان (خریدار کنسورشیم) کے کنٹرول میں دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ حکومت نے پی آئی اے کے بنیادی ہوا بازی (ایوی ایشن) کے شعبے کو اس کے متبادل اثاثوں اور قرضوں سے الگ کرنے کے لیے ایک ہولڈنگ کمپنی تشکیل دی تھی، تاکہ ایئرلائن کو مالی طور پر بوجھ سے آزاد کر کے نجی شعبے کے حوالے کیا جا سکے۔ حکام کا ماننا ہے کہ ان قیمتی ملکی و غیر ملکی املاک کی منتقلی سے جہاں ایئرلائن کے بقایاجات اور مالیاتی خسارے کو سنبھالنے میں مدد ملے گی، وہاں پی آئی اے کے نئے انتظامی ڈھانچے کو بھی تجارتی بنیادوں پر چلانا آسان ہو جائے گا۔