سوات: معروف ٹرانسپورٹر افضل گجر قاتلانہ حملے میں زخمی ، بیٹے ، بھتیجے سمیت 3 افراد جاں بحق
حملہ آوروں نے راکٹ لانچرز اور جدید ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے گاڑیوں کو نشانہ بنایا، کئی افراد زخمی ہوئے
فائل فوٹو
سوات: سوات کی تحصیل مٹہ کے علاقے شکردرہ میں معروف ٹرانسپورٹر اور سابق امیدوار صوبائی اسمبلی افضل خان گجر کے قافلے پر رات کے وقت نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں افضل گجر زخمی جبکہ بیٹے ، بھتیجے سمیت 3 افراد جاں بحق ہو گئے۔
پولیس حکام کے مطابق حملہ آوروں نے راکٹ لانچرز اور جدید ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے گاڑیوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا اور بعض گاڑیوں میں آگ بھی بھڑک اٹھی، واقعے میں افضل خان گجر کا جواں سال بیٹا ملک بہرام خان اور بھتیجا نثار خان موقع پر جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک سیکیورٹی گارڈ عمران ( ریٹائرڈ ایف سی اہلکار) سکنہ باڑہ گاڑی کے اندر جل کر چل بسا ۔
حملے میں افضل گجر، ان کا ایک سیکیورٹی گارڈ مسلم سکنہ چارسدہ زخمی ہوگئے ہیں، اسی طرح ایک خاتون ہوائی گولی لگنے سے گھر کے اندر زخمی ہوئی ہے ۔ فائرنگ کا سلسلہ ایک گھنٹے سے زائد جاری رہا ۔ پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ۔
واقعے کے بعدپیر کے روز افضل گجر نے زخمی حالت کے باوجود جاں بحق افراد کی میتیں شکردرہ کے مقام پر مینگورہ مٹہ شاہراہ پر رکھ کر شدید احتجاج کیا جس سے مرکزی شاہراہ پر ٹریفک معطل ہو گئی اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں جبکہ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، بعد ازاں پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کرایا گیا اور تینوں افراد کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔
سیکیورٹی گارڈ عمران کی میت ان کے آبائی علاقے روانہ کر دی گئی، پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی کبل سوات میں درج کر لیا گیا ہے جس میں 6 نامزد سمیت مجموعی طور پر16 افراد کو شامل کیا گیا ہے جبکہ 4 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ڈی پی او سوات محمد عمر خان نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی تفتیش جاری ہے اور مزید کارروائی کی جا رہی ہے جبکہ علاقے میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن بھی جاری ہے۔