ایلون مسک نے مسلمان دشمن ہونے کا بلواسطہ اعتراف کر لیا
عصمت دری، قتل یا ایسے نظریات کی حمایت کرتے ہیں جو مغربی قوانین اور معاشرتی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتے
واشنگٹن: ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے ایک حالیہ انٹرویو میں اپنے اوپر لگنے والے نسل پرستی اور مسلم مخالف ہونے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی نسل یا مذہب کے خلاف نہیں ہیں بلکہ ان افراد کی مخالفت کرتے ہیں جو ان کے بقول مغربی ممالک کے قوانین اور اقدار سے متصادم نظریات رکھتے ہیں۔
انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ لوگ انہیں نسل پرست قرار دیتے ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے، ایلون مسک نے جواب دیا کہ ان کی شریک حیات آدھی بھارتی ہیں، ان کے چار بچے ہیں اور ان میں سے ایک کا نام معروف بھارتی ماہرِ طبیعیات سبرامنین چندر شیکھر کے نام پر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کمپنیوں میں مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد اعلیٰ عہدوں پر کام کر رہے ہیں، اس لیے انہیں نسل پرست کہنا درست نہیں
مسلم مخالف ہونے سے متعلق سوال پر ایلون مسک نے کہا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف نہیں بلکہ ایسے افراد کی مخالفت کرتے ہیں جو ان کے بقول عصمت دری، قتل یا ایسے نظریات کی حمایت کرتے ہیں جو مغربی قوانین اور معاشرتی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے اس موقع پر روایتی میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ میڈیا ان کے مؤقف کو درست انداز میں پیش نہیں کرتا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ میں امیگریشن، سیکیورٹی اور ثقافتی شناخت سے متعلق ایلون مسک کے خیالات پر مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے، جبکہ ان کے ناقدین ان کے بعض بیانات پر تنقید کرتے رہے ہیں۔
سر دیکھ لیں یہ بنائی ہے اگر ٹھیک ہے تو لگا دیتا ہوں