ایران پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ معاہدہ قریب ہے۔ صدر ٹرمپ
تیل کی قیمت ڈرامائی طور پر گرنے والی ہے۔ صدر ٹرمپ کا ریلی سے خطاب
افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کیا جائے گا یا ایران میں ہی تباہ ہوگا،ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے بندرگاہوں کی ناکہ بندی سے دباؤ بڑھ رہا ہے اور اس کا مقصد تہران کو معاہدے پر مجبور کرنا ہے۔ناکہ بندی بمباری سے زیادہ موثر ثابت ہوئی۔
نیویارک میں باسکٹ بال میچ دیکھنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ “بہت مضبوط اور طاقتور معاہدے” کے قریب ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکا بمباری کرے تو یہ بہت آسان ہے، لیکن اس سے بڑے پیمانے پر تباہی اور جانی نقصان ہوگا، اور ممکن ہے کہ آبنائے ہرمز مہینوں تک بند رہے۔
ٹرمپ کے مطابق انہیں بمباری کا راستہ پسند نہیں اور وہ ایک ایسے معاہدے کے حق میں ہیں جو بمباری سے بھی زیادہ مضبوط ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے “ناکہ بندی” ایک بہت مؤثر ہتھیار ثابت ہوا ہے، جو بمباری سے زیادہ طاقتور ہے۔ ان کے مطابق ایران کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے اور وہ آخرکار معاہدے پر مجبور ہو جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیش گوئی کی ہے کہ امریکہ اگلے دو ہفتوں کے اندر ایران پر ’مکمل فتح‘ کا اعلان کر سکتا ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار ’ہمیں سب کچھ دینے کے لیے تیار ہیں۔
سی بی ایس کے مطابق صدر ٹرمپ نے پیر کی شام جنوبی کیرولینا سے ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم اور ریاست کی گورنری کی امیدوار پامیلا اوٹ کی حمایت میں ایک ٹیلی فون ریلی میں کہا کہ ’آپ واقعی اگلے دو ہفتوں میں ایک فتح دیکھنے جا رہے ہیں، جب ہم مکمل فتح کا اعلان کریں گے۔ یہ ایک مکمل فتح ہونے والی ہے، یہ بہت جلد ہونے والی ہے، اور تیل کی قیمت ڈرامائی طور پر گرنے والی ہے۔
امریکی صدر نے حالیہ مہینوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے فوری خاتمے کے بارے میں بارہا ایسی ہی پیشین گوئیاں کی ہیں۔ فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے وہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ بحران ہفتوں میں ختم ہو سکتا ہے۔
تاہم، یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کس مرحلے پر ہیں اور دونوں فریق کسی حتمی معاہدے کے کتنے قریب ہیں۔
ٹرمپ کے نئے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حالیہ دنوں میں مذاکرات میں پیش رفت کے متضاد اشارے ملے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ایران، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے درمیان فوجی تناؤ بھی جاری ہے۔