20ممالک نے غزہ پر امدادی پابندیاں تشویشناک قرار دیدیں
غزہ میں جانے والی امداد مقدار اور معیار دونوں لحاظ سے اب بھی ناکافی ہے
بیس ممالک نے اسرائیل کے اس قانون کی شدید مذمت کی ہے جس کے تحت امدادی تنظیموں کو اپنے عملے کی فہرست جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے، بصورت دیگر انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
18 یورپی ممالک کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا اور جاپان نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں کام کرنے والی امدادی تنظیموں کے لیے اسرائیل کے نئے رجسٹریشن قوانین “انتہائی تشویشناک” ہیں۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل کی اعلیٰ عدالت نے گزشتہ ہفتے ان پابندیوں کو برقرار رکھا، جن کے تحت 37 امدادی تنظیموں کو اس وجہ سے کام سے روک دیا گیا کہ انہوں نے اپنے فلسطینی اور بین الاقوامی ملازمین کی فہرست اسرائیلی حکومت کو دینے سے انکار کیا تھا۔
بیس ممالک نے کہا کہ یہ قوانین امدادی تنظیموں کی سرگرمیوں کو شدید طور پر محدود کر دیں گے اور بحران کے جواب میں ان کی صلاحیت کو متاثر کریں گے۔
ان ممالک نے اپنے بیان میں کہا کہ “غزہ میں جانے والی امداد مقدار اور معیار دونوں لحاظ سے اب بھی ناکافی ہے جبکہ تقریباً پوری آبادی زندگی بچانے والی خدمات پر انحصار کر رہی ہے۔”
انہوں نے اسرائیل سے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ وہ موجودہ شکل میں اس رجسٹریشن قانون کو نافذ نہ کرے۔
اسرائیل نے ان قوانین کی پابندی نہ کرنے پر کئی امدادی اداروں پر پابندی عائد کر دی ہے جن میں آکسفیم، سیو دی چلڈرن، ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (MSF) اور انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی شامل ہیں۔
امدادی تنظیموں نے خدشات ظاہر کیے ہیں کہ اسرائیل کی کارروائیوں کے دوران غزہ میں سینکڑوں انسانی ہمدردی کے کارکنوں کی ہلاکت سمیت کئی سنگین مسائل موجود ہیں۔