خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری حکومت کی اولین ترجیح قرار
نجکاری کے ذریعے اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے، مالی بوجھ کم کرنے اور صارفین کو بہتر خدمات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری حکومت کی اولین ترجیح قرار
اسلام آباد: وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے عمل کا جائزہ لیا گیا، جہاں حکومت نے خسارے کا شکار سرکاری اداروں کی اصلاحات اور نجکاری کے عزم کا اعادہ کیا۔
اجلاس میں نجکاری کے جاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام مراحل شفافیت اور مسابقتی اصولوں کے مطابق مکمل کیے جائیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نجکاری کے ذریعے اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے، مالی بوجھ کم کرنے اور صارفین کو بہتر خدمات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ نجکاری کے پہلے مرحلے میں تین بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو شامل کیا گیا ہے، جن کے لیے سرمایہ کاروں کی دلچسپی حاصل کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاروں سے رابطے بڑھانے کے لیے مختلف سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔
حکام کے مطابق نجکاری کے بعد توانائی کے شعبے میں مؤثر نگرانی اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مضبوط ریگولیٹری نظام متعارف کرایا جائے گا تاکہ خدمات کے معیار اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس میں اقتصادی، مالیاتی اور توانائی شعبوں سے متعلق وفاقی وزرا اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی اور نجکاری کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات اور نجکاری کے اقدامات ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب کر سکتے ہیں، تاہم اس عمل کی کامیابی کا انحصار شفافیت، مؤثر نگرانی اور عوامی مفادات کے تحفظ پر ہوگا۔