آزادکشمیر میں صورت حال پرسکون،عوام نے احتجاج کی کال مسترد کردی ،ریاستی حکومت
راولاکوٹ اور دیگر اضلاع میں بھی بازار اور کاروباری مراکز کھل چکے ہیں۔ترجمان
آزاد کشمیر میں صورتحال معمول پر آگئی۔حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ کشمیر کے عوام نے احتجاج کی کال مسترد کردی ہے، آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع اور کوہالہ میں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔ کوہالہ میں تمام مارکیٹیں اور تجارتی مراکز کھلے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ریاست کے تمام شہروں بشمول دارالحکومت مظفرآباد اور راولاکوٹ میں حالات مکمل پرسکون ہیں۔ تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز اور سماجی سرگرمیاں معمول کے مطابق بحال ہو چکی ہیں، کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی احتجاج کی کال کو عوام کی اکثریت نے مسترد کر دیا ہے۔
ریاستی دارالحکومت مظفرآباد میں سرکاری اور نجی دفاتر کھلے ہیں اور ٹریفک کی روانی بھی معمول پر آ چکی ہے۔راولاکوٹ اور دیگر اضلاع میں بھی بازار اور کاروباری مراکز کھل چکے ہیں، اور ہر قسم کی تجارتی و نجی سرگرمیاں رواں دواں ہیں۔
ترجمان انسپکٹر جنرل پولیس آزاد کشمیر کے مطابق کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح عناصر نے راولا کوٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر منصوبہ بندی کے تحت فائرنگ کی تھی، سی ایم ایچ راولا کوٹ کا محاصرہ کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے محدود نوعیت کی کارروائی میں محاصرہ ختم کرایا۔
ترجمان آئی جی آزاد کشمیر کے مطابق 6 جون سے اب تک پُرتشدد عناصر کی فائرنگ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 4 اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہوئے، شہدا میں راولاکوٹ پولیس کے 3 اور فرنٹئیر کانسٹیبلری کا 1 اہلکار شامل ہے، کالعدم ایکشن کمیٹی کے کچھ افراد اپنی ہی فائرنگ میں مارے گئے۔
ترجمان آئی جی کا کہنا ہے کہ شرپسند عناصر کو منتشر کرکے امن و امان بحال کردیا گیا ہے، بیشتر شاہراہیں ٹریفک کیلیے کھلی ہیں، بازاروں میں تجارتی سرگرمیاں بحال ہیں، آزاد کشمیر پولیس اوردیگر قانون نافذ کرنےوالے ادارے عوام کے تحفظ اور ریاستی رٹ کیلیے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دے رہے ہیں۔
بیان کے مطابق جام شہادت نوش کرنے والے وطن کے بیٹوں کی نماز جنازہ جلد سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی جائےگی، کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح اورپرتشدد شرپسندوں کےخلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ وہ کالعدم ایکشن کمیٹی یا اس سے وابستہ کسی بھی سرگرمی میں شرکت نہ کریں۔