حافظ نعیم الرحمان کی گلگت انتخابات اور طرز حکمرانی پر تنقید
ملک کے مختلف حصوں میں عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے سیاسی مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
کراچی: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کی معاشی پالیسیوں، مجوزہ بجٹ اور مختلف عوامی مسائل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئندہ وفاقی بجٹ میں عوامی مشکلات کم کرنے کے بجائے مزید مالی بوجھ ڈالنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث عوام پہلے ہی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے حالیہ سیاسی حالات پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے انتخابی عمل اور حکومتی طرزِ حکمرانی پر تنقید کی۔ حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک کے مختلف حصوں میں عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے سیاسی مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کے بڑھتے ہوئے نرخ معیشت اور عام شہری دونوں کے لیے مشکلات کا سبب بن رہے ہیں۔ ان کے مطابق صنعت، تجارت اور گھریلو صارفین کو ریلیف دیے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بجٹ میں عوام کو خاطر خواہ ریلیف نہ دیا گیا تو جماعت اسلامی آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کر سکتی ہے۔
کراچی کے پانی کے بحران پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ شہر کے لاکھوں شہری پانی کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں اور اہم آبی منصوبوں میں تاخیر سے مسائل مزید بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ پانی کے منصوبوں کی تکمیل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے سمندری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانی شہریوں کی بازیابی کا معاملہ بھی اٹھایا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندانوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اور مؤثر سفارتی و انتظامی اقدامات کیے جائیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل، مہنگائی میں کمی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔