جھنگ:18 سالہ طالبہ سے مبینہ اجتماعی زیادتی،4 مشتبہ افراد گرفتار

طالبہ چند روز قبل پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئی تھی، جس کے بعد اہل خانہ کی درخواست پر گمشدگی کا مقدمہ درج کیا گیا اور تلاش کا عمل شروع کیا گی

June 9, 2026 · قومی

جھنگ میں چند روز قبل لاپتہ ہونے والی 18 سالہ طالبہ عیشال فاطمہ کی ہلاکت کے معاملے نے سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے۔ پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے بعد چار مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ واقعے میں استعمال ہونے والی ایک گاڑی بھی تحویل میں لے لی گئی ہے۔

پولیس دستاویزات کے مطابق طالبہ کے والد ارشاد حسین نے 7 جون 2026 کو تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں درخواست جمع کرائی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کی بیٹی 4 جون کو گھر سے کپڑے لینے کے لیے نکلی تھی لیکن واپس نہیں آئی۔ اہل خانہ نے مختلف مقامات پر تلاش کے باوجود اس کا سراغ نہ لگا سکے۔

درخواست کے مطابق بعد ازاں اہل خانہ کو ایک فون کال موصول ہوئی جس میں اطلاع دی گئی کہ طالبہ کی طبیعت خراب ہے اور وہ ایک نجی اسپتال میں موجود ہے۔ والد اور دیگر افراد جب اسپتال پہنچے تو معلوم ہوا کہ پولیس طالبہ کو تشویش ناک حالت میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کر چکی ہے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق طالبہ بے ہوشی کی حالت میں پائی گئی تھی اور ابتدائی درخواست میں والد نے نامعلوم افراد کے خلاف اغوا کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے قانونی کارروائی کی استدعا کی تھی۔ درخواست کے بعد پولیس نے تعزیراتِ پاکستان کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دیں۔

تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد ازاں طالبہ دورانِ علاج دم توڑ گئی، جس کے بعد کیس کی نوعیت مزید سنگین ہو گئی۔ واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے میڈیکل، فرانزک اور دیگر شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر دستیاب شواہد کی مدد سے چار مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ گرفتار افراد سے تفتیش جاری ہے جبکہ ایک گاڑی بھی قبضے میں لی گئی ہے جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسے واقعے کے دوران استعمال کیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ کیس کے حتمی حقائق میڈیکل اور فرانزک رپورٹس موصول ہونے کے بعد سامنے آئیں گے، اس لیے تحقیقات مکمل ہونے تک کسی بھی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔

دوسری جانب متاثرہ طالبہ کے اہل خانہ نے وزیراعلیٰ پنجاب اور اعلیٰ پولیس حکام سے شفاف تحقیقات اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔