وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں نگران دور میں کی گئی بھرتیوں کو غیر قانونی قرار دیدیں

نگران حکومت کا بنیادی کام صرف روزمرہ کے انتظامی امور چلانا ہوتا ہے اور وہ مستقل نوعیت کے فیصلے کرنے کی مجاز نہیں ہوتی , فیصلہ

June 10, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے نگران حکومتوں کے اختیارات سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے خیبرپختونخوا میں نگران دور کے دوران کی گئی بھرتیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

ہم نیوز کے مطابق جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قراردیا کہ نگران حکومت کا بنیادی کام صرف روزمرہ کے انتظامی امور چلانا ہوتا ہے اور وہ مستقل نوعیت کے فیصلے کرنے کی مجاز نہیں ہوتی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نگران حکومت کسی بھی صورت منتخب حکومت کے مساوی اختیارات نہیں رکھتی اور اس کے ہر اہم اقدام کے لیے الیکشن کمیشن کی پیشگی منظوری ضروری ہے۔ملازمین کی بھرتیاں مستقل نوعیت کا اقدام ہیں، اس لیے جنوری 2023 سے فروری 2024 کے دوران نگران حکومت کی جانب سے کی گئی تقرریاں قانون کے مطابق نہیں تھیں۔عدالت نے خیبرپختونخوا ملازمین برطرفی ایکٹ 2025 کو آئین اور بنیادی حقوق کے منافی قرار دینے کی استدعا بھی مسترد کر دی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اگر کسی قانون سے چند افراد متاثر ہوتے ہیں تو محض اس بنیاد پر اسے بنیادی حقوق کے خلاف نہیں کہا جا سکتا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ عام انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی خیبرپختونخوا اسمبلی کو قانون سازی کا مکمل آئینی اختیار حاصل ہے۔فیصلے کے ساتھ ہی برطرف ملازمین کی جانب سے دائر تمام اپیلیں خارج کر دی گئیں، جبکہ نگران دور میں بھرتی کیے گئے درجہ چہارم کے ملازمین کی برطرفی برقرار رکھی گئی۔