بھارت میں دو قومی نظریہ زندہ، مسلمان رہنما اپنے حقوق کیلئے کمیٹی بنانے پر مجبور

انڈین مسلمز فار سول رائٹس کے زیر اہتمام نئی دہلی میں قومی مشاورتی کانفرنس کا انعقاد، 51 رکنی قومی کمیٹی تشکیل میں متعدد جماعتوں کے اہم رہنما شامل

July 27, 2026 · بام دنیا

نئی دہلی: بھارت میں مسلم اقلیت کو درپیش چیلنجز، آئینی حقوق کے تحفظ اور قانونی چارہ جوئی کے لیے مسلم رہنماؤں، اراکینِ پارلیمنٹ اور دانشوروں پر مشتمل ایک 51 رکنی اعلیٰ سطحی قومی رابطہ کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ یہ اہم فیصلہ انڈین مسلمز فار سول رائٹس (IMCR) کے زیر اہتمام نئی دہلی کے کنسٹ ٹیوشن کلب میں منعقدہ ایک روزہ قومی مشاورتی کانفرنس میں کیا گیا۔

جمعہ 24 جولائی 2026 کو ہونے والے اس اہم اجلاس کی صدارت سابق رکنِ پارلیمنٹ محمد ادیب نے کی، جس میں ملک بھر سے 150 سے زائد مقتدر مسلم شخصیات، سیاسی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کر کے موجودہ حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔اس نو تشکیل شدہ کمیٹی میں ملک کی مقتدر اپوزیشن اور علاقائی جماعتوں کے سرکردہ چہرے شامل کیے گئے ہیں تاکہ مشترکہ طور پر آواز اٹھائی جا سکے۔

اراکین میں جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ، پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی کی سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی، اور انڈین نیشنل کانگریس کے سینئر رہنما و سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید نمایاں ہیں۔ ان کے علاوہ سماج وادی پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ اقراء حسن، مولانا محب اللہ ندوی، ضیاء الرحمن برق، اور کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ عمران مسعود بھی اس کا حصہ ہیں۔

یہ سیاسی تنوع اس بات کو یقینی بنائے گا کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مسلم مسائل کو پوری قوت کے ساتھ اٹھایا جائے۔یہ 51 رکنی کمیٹی بنیادی طور پر ایک مضبوط مانیٹرنگ اور ایکشن باڈی کے طور پر کام کرے گی،

جس کا دائرہ کار پورے ملک پر محیط ہوگا۔ کمیٹی کا بنیادی ہدف ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے مبینہ مظالم، ماب لنچنگ، مسلم املاک پر بلڈوزر کارروائیوں، اور مذہبی مقامات و اوقاف قوانین میں مجوزہ ترامیم کے خلاف عدالتوں میں مؤثر قانونی چارہ جوئی کرنا ہے۔

اس کے ساتھ ہی یہ کمیٹی مسلم خواتین کے حقوق کے تحفظ، حجاب کے تنازع پر تعلیم تک رسائی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے، اور تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مکالمہ قائم کر کے اقلیتوں کے حقوق کا روڈ میپ تیار کرنے کے لیے ملک کی مختلف ریاستوں میں مقامی سطح پر بھی مشاورتی مہم چلائے گی۔