تنخواہیں ،پینشن بڑھ گئی۔ الیکٹرک گاڑیاں مہنگی،سینٹری پیڈسستے،چھوٹے دکان داروں کے لیے فکس ٹیکس
بزنس کلاس میں بیرون ملک سفر پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) کو ختم کرنے کی تجویز
فائل فوٹو
وفاقی بجٹ برائے 2026۔27 میں تنخواہیں اور پنشن بڑھانے سمیت کئی ریلیف اقدامات کا بھی اعلان کیا گیاہے۔تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم کرنے کی تجویز ہے۔الیکٹر ک گاڑیوں پر ٹیکس لگادیا ہے، سپرٹ مہنگاہوگیا ہے، سینٹری پیڈز ،بزنس کلاس کا سفر سستا،آئی ٹی برآمدات کے لیے ٹیکس رعایت میں توسیع کردی گئی ہے۔چھوٹے دکان داروں کے لیے فکس ٹیکس اسکیم کا بھی اعلان کیا گیاہے۔
بجٹ تقریرکے مطابق تنخواہوں، پنشن اور کم از کم اجرت میں اضافہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں بھی 7 فیصد اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ کم سے کم ماہانہ اجرت (minimum wage) میں 10 فیصد اضافہ کرنے کی تجویز ہے۔
متعدد اشیاء پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے یا نئے ٹیکس عائد کرنے کی وجہ سے وہ مہنگی ہوئی ہیں، کچھ مخصوص شعبوں میں ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
سیلز ٹیکس ایکٹ کے چھٹے اور آٹھویں شیڈول سے کئی اشیاء کو نکال دیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ان پر اب معیاری سیلز ٹیکس لاگو ہوگا۔
بچوں کے استعمال کی اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کر دی گئی ہے، جس میںپنسلیں، کلر پنسلیں، قلم، بال پین، مارکرز، صاف کرنے والے ربڑ (Erasers)، شارپنرز اور جیو میٹری باکس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈرائنگ اور لکھنے کے لیے روشنائی پر بھی ٹیکس چھوٹ ختم کر دی گئی ہے۔سویاں ، شیر مال، بن اور رسک جو ٹیئرـ1 ریٹیلرز یا بڑی بیکریوں پر فروخت ہوتے ہیں، ان پر چھوٹ ختم کر دی گئی ہے۔
افغانستان سے درآمد شدہ سبزیاں اور پھل (بشمول جڑیں اور ٹماٹر وغیرہ) اب ٹیکس چھوٹ سے محروم ہوں گے۔پولٹری اور مویشیوں کی خوراک اور مختلف بیجوں کے تیل کے فضلے (Seed meals) پر بھی ٹیکس چھوٹ ختم کر دی گئی ہے، جس سے مرغی اور گوشت کی قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔
مختلف تشخیصی کٹس اور آلات پر بھی ٹیکس استثنیٰ ،ایل پی جی پر آٹھویں شیڈول کے تحت ملنے والا رعایتی ریٹ ختم کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پٹرولیم لیوی کا ہدف بھی 1,498 ارب روپے سے بڑھا کر 1,676 ارب روپے کر دیا گیا ہے، جس سے ایندھن کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے۔
500 ڈالر سے زائد مالیت کے موبائل فونز پر ٹیکس کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی ہے تاکہ ریونیو بڑھایا جا سکے۔
رسائل کی اشاعت اور فراہمی پر سیلز ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔
سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت قدرتی آفات کے دوران ملنے والے تحائف اور ریلیف کے سامان پر ٹیکس چھوٹ کو مزید واضح اور آسان بنایا گیا ہے۔ٹریکٹرز پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کر دی گئی ہے۔
ٹیکس ریلیف اور چھوٹ کے اعلانات
تنخواہ دار طبقے کے لیے 22 سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر انکم ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد، 32 سے 41 لاکھ پر 30 فیصد سے 25 فیصد، 41 سے 56 لاکھ پر 35 فیصد سے 29 فیصد، اور 56 سے 70 لاکھ روپے پر 35 فیصد سے 32 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ تنخواہ دار طبقے کی آمدن پر عائد سرچارج کو مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
کاروباری طبقے کے لیے 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے تک کی آمدنی پر عائد سپر ٹیکس مکمل ختم کرنے اور 50 کروڑ سے زائد آمدنی پر اس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ آئی ٹی (IT) برآمدات پرصفر اعشاریہ 25فیصد فکسڈ ٹیکس رجیم کی رعایت میں 30 جون 2029 تک توسیع دینے کی تجویز ہے۔
خواتین کی صحت سے متعلق ضروری اشیاء (سینیٹری پیڈز وغیرہ) اور خاندانی منصوبہ بندی کی اشیاء (Contraceptives) پر عائد ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز ہے۔ کینسر اور دیگر موذی بیماریوں کی ادویات کی مقامی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی مکمل طور پر ختم کی جا رہی ہے۔ بیرون ملک کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے استعمال پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے کم کر کے صفر اعشاریہ 5فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے کی حوصلہ افزائی کے لیے غیر ملکی اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس (Capital Value Tax) اوربزنس کلاس میں بیرون ملک سفر پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) کو ختم کرنے کی تجویز ہے۔ جائیداد کی منتقلی پر ودہولڈنگ ٹیکس فائلرز کے لیے خریداری پراڑھائی فیصد سے کم کر کے1اعشاریہ 25 فیصد اور فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کر کے2اعشاریہ 75 فی صد کرنے کی تجویز ہے۔
ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کا نفاذ
20 کروڑ روپے تک سالانہ سیلز والے چھوٹے دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت وہ سالانہ سیلز کا 1 فیصد ٹیکس ادا کریں گے اور گوشوارہ جمع کراتے وقت کم از کم 25 ہزار روپے ادا کرنا ہوں گے۔ درآمد کی جانے والی کاروں، 2000cc سے 3000cc تک کی SUVs، اور 2 کروڑ روپے سے مہنگی لگژری الیکٹرک گاڑیوں (EVs) پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد یا بڑھائی جا رہی ہے۔
دو کروڑ سے مہنگی لگژری الیکٹرک گاڑیوں پر ڈیوٹی بڑھائی گئی ہے دیگر الیکٹرک گاڑیوں پر کم کی جا رہی ہے
پٹرولیم مصنوعات میں ملاوٹ کو روکنے کے لیے سفید سپرٹ اور منرل تارپین آئل جیسے سالوینٹس پر 80 روپے فی لیٹر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جا رہی ہے۔
بجٹ کے اہم اہداف اور اخراجات کی تفصیلات
ملکی دفاع کے لیے مجموعی طور پر3ہزارارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے لیے1ہزارارب روپے رکھے گئے ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کا بجٹ 17 فیصد اضافے کے ساتھ 838 ارب روپے کرنے اور اس کا دائرہ کار1اعشاریہ 2 کروڑ خاندانوں تک وسیع کرنے کی تجویز ہے۔
ایف بی آر (FBR) کا ٹیکس وصولی کا ہدف15اعشاریہ 164ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جو گزشتہ سال سے17اعشاریہ 6 فیصد زیادہ ہے۔ مالی سال 27-2026 کے لیے ملکی اقتصادی ترقی (GDP) کی شرح 4 فیصد جبکہ افراط زر کی اوسط شرح8اعشاریہ 2 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔
نجکاری اور توانائی کے حوالے سے اقدامات
پی آئی اے (PIA) کو 185 ارب روپے کے عوض نجی شعبے کے حوالے کر دیا گیا ہے اور اب حکومتی اداروں، جنکوز اور ڈسکوز کی نجکاری کا منصوبہ جاری ہے۔ جنوری 2027 سے پاکستان میں سبسڈیز کو براہ راست مستحق صارفین تک پہنچانے کے لیے “ڈائریکٹ سبسڈی میکنزم” (Direct Subsidy Mechanism) کا آغاز کیا جائے گا۔