مطالبات کی منظوری کے بعد سرکاری ملازمین نے دھرنا ختم کر دیا

طارق فضل چوہدری نے دس فیصد مطالبات بھی ترجیحی بنیادوں پر منظورکرنے کی یقین دہانی کرائی

June 13, 2026 · قومی

اسلام آباد میں مطالبات کی منظوری کے لیے جاری سرکاری ملازمین کا دھرنا ختم کر دیا گیا، وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے دھرنے میں آ کر باقی رہ جانے والے دس فیصد مطالبات بھی ترجیحی بنیادوں پر منظورکرنے کی یقین دہانی کرائی۔

دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی سیاست ہمیشہ عوام کے ساتھ رہی ہے ۔ سرکاری ملازمین نے بھی ہمیشہ پُرامن جدوجہد کی ۔ طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیرِاعظم نے اس سارے معاملے پر رانا ثناء اللہ اور ان پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی بنائی تھی۔ کمیٹی نے ایف بی آر، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزارتِ خزانہ کے اعلیٰ افسران کی موجودگی میں تفصیلی ملاقاتیں کیں۔
وزیراعظم کی ہدایت پر ملازمین کے 90 فیصد مطالبات مان لیے گئے ہیں، جن میں 15 فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس، کنوینس الاؤنس اور دو ایڈہاک الاؤنسز کا ضم ہونا شامل ہے، جبکہ رہ جانے والے 10 فیصد مسائل کو بھی باہمی مشاورت سے جلد حل کر دیا جائے گا۔ اس موقع پر اگیگا صدر رحمان باجوہ نے طارق فضل چوہدری کا شکریہ ادا کیا ۔ جس کے بعد سرکاری ملازمین دھرنا ختم کرکے پُرامن انداز میں منتشر ہوگئے۔