ایم کیو ایم میں اختلافات بڑھ گئے؟ خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کے ایک دوسرے پر لفظی وار
آپ کو وہ نہیں ملے گا جو آپ چاہیں گے، خالد مقبول ۔میں لعنت بھیجتا ہوں سارے عہدوں پر ، مصتفیٰ کمال
فائل فوٹو
کراچی: ایم کیو ایم پاکستان میں اختلافات بڑھنے لگے ہیں؟ دو سینئر رہنما آمنے سامنے آگئے۔خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال نے ایک دوسرے پر وارپر لفظی وار کیے ہیں۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پارٹی کا سب سے بڑا عہدے دار کارکن ہے، آپ کو وہ نہیں ملے گا جو آپ چاہیں گے، وہ ملے گا جو تنظیم چاہے گی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جس لیڈر کا کردار نہیں وہ قوم کا کیس نہیں لڑ سکتا ہے، ورنہ ہم بانی ایم کیو ایم کو نہیں چھوڑتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جن سے حقوق لینے ہیں انہی سے میری پارٹی کا سربراہ ایکسٹینشن لے گا تو حقوق نہیں ملیں گے۔ ایسے عہدوں کی ضرورت نہیں جن سے قوم کا فائدہ نہ ہوسکے۔
آپ کہہ رہے ہیں پارٹی الیکشن اس لیے نہیں کروا رہے کہ جنگ چل رہی ہے جب کہ ٹی وی پر چل رہا ہے پنکی کے کام میں سرفہرست ایم کیو ایم کے ایم این اے کا نام ہے، ہم نے اس ایم این اے کے خلاف کیا ایکشن لیا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ میں لعنت بھیجتا ہوں سارے عہدوں پر جب قوم کھائی میں گر رہی ہو اور ہم کچھ نہیں کر سکیں۔
اُنہوں نے کہا کہ آپ کو لگتا ہے گالم گلوچ کر کے ڈراؤ گے، ہم تو بانی ایم کیو ایم سے نہیں ڈرے، آپ کو پارٹی سربراہ اس لیے نہیں بنایا کہ جن سے حقوق لینے ہیں ان سے سربراہی کی ایکسٹینشن کروائیں، آپ میری قوم سے مخلص ہیں، تو میں ورکر بن کر کام کروں گا۔
اُنہوں نے کہا کہ رضوان بابر کہتا ہے ہم دیکھ رہے ہیں، یہ تمہارے باپ کی پارٹی ہے، آؤ مجھے غلط ثابت کرو، میں یہیں سب کے سامنے معافی مانگوں گا، جی بی الیکشن میں ٹکٹ دے رہے ہیں اور کوئی میٹنگ نہیں ہوئی، ایک سال سے پارٹی کا کوئی اجلاس نہیں ہوا، جس لیڈر کا کردار نہیں ہے، وہ قوم کا مقدمہ نہیں لڑ سکتا ہے، ہمیں اندازہ ہوتا کہ چیئرمین ایسا ہوگا تو ہم پارٹی بند کر کے چلے جاتے کبھی مل کر نہ بیٹھتے۔