آبنائے ہرمز سے ایرانی جہازوں کی آمدورفت بحال
ایرانی آئل ٹینکروں کی بین الاقوامی پانیوں تک رسائی، معیشت کی بحالی کی امیدیں بڑھ گئیں
آبنائے ہرمز سے ایرانی جہازوں کی گزرگاہ کو امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا پہلا عملی اور ٹھوس نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تہران سے رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام اس پیش رفت کو معاہدے پر عمل درآمد کی جانب اہم قدم قرار دے رہے ہیں، کیونکہ ایران نے مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت کے لیے بحری ناکہ بندی کے خاتمے کو اولین شرط کے طور پر پیش کیا تھا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر ایرانی عوام کا ردعمل ملا جلا رہا ہے۔ عوامی حلقوں میں امریکا کے حوالے سے گہرا عدم اعتماد پایا جاتا ہے اور لوگ اس بات کے متقاضی ہیں کہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کی عملی اور قابلِ تصدیق تکمیل نظر آئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی جہازرانی کی بحالی عوام کے لیے ایک مثبت اشارہ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ ایران کی معیشت کا بڑا انحصار تیل کی برآمدات پر ہے۔ آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکروں کی بین الاقوامی پانیوں تک رسائی سے ملکی خزانے میں زرمبادلہ آئے گا اور معیشت کی بحالی میں مدد ملے گی۔
رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت ایران اور امریکا کے درمیان وسیع تر اقتصادی تعاون کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے۔ مفاہمتی یادداشت کا ایک اہم حصہ ایرانی معیشت کی بحالی کے لیے ایسا طریقہ کار وضع کرنا ہے جس کے تحت پابندیوں میں نرمی اور بحری ناکہ بندی کے خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔