شام آئس کریم کھانے کے بعد صبح سستی کی بڑی وجہ کیا ہے؟
اگر بھوک محسوس ہو تو ہلکی اور آسانی سے ہضم ہونے والی غذائیں بہتر رہتی ہیں، تاکہ نیند اور جسمانی نظام متاثر نہ ہو۔
گرمی کے موسم میں رات کے وقت ٹھنڈی آئس کریم کھانا بہت سے لوگوں کو پسند ہوتا ہے، تاہم ماہرین صحت کے مطابق یہ عادت اگلی صبح دماغی تھکن، سستی اور ذہنی دھند کی کیفیت کا سبب بن سکتی ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئس کریم میں چینی اور چکنائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو رات کے وقت جسم میں جا کر خون میں شوگر کی سطح کو تیزی سے بڑھا دیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں انسولین کی مقدار بڑھتی ہے اور بعد میں شوگر اچانک کم ہو جاتی ہے، جس سے نیند کا قدرتی نظام متاثر ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق رات کے وقت ہاضمہ سست ہو جاتا ہے، جبکہ اس دوران جسم آرام اور دماغ کی صفائی کے عمل میں ہوتا ہے۔ لیکن بھاری اور میٹھی خوراک کھانے سے ہاضمہ سرگرم ہو جاتا ہے اور دماغ کو مطلوبہ آرام نہیں مل پاتا۔
اس کے علاوہ جسم میں میلاٹونن اور کورٹیسول جیسے ہارمونز کا توازن بھی متاثر ہوتا ہے۔ میلاٹونن نیند لانے میں مدد دیتا ہے جبکہ زیادہ چینی کورٹیسول کو بڑھا دیتی ہے، جس سے نیند بار بار متاثر ہوتی ہے اور جسم مکمل طور پر آرام نہیں کر پاتا۔
ماہرین صحت کا مزید کہنا ہے کہ رات گئے میٹھی اور بھاری خوراک کا استعمال نہ صرف اگلی صبح سستی کا باعث بنتا ہے بلکہ طویل مدت میں یادداشت کی کمزوری، چڑچڑاپن اور وزن میں اضافے جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
صحت مند معمول کے لیے مشورہ دیا جاتا ہے کہ رات کو سونے سے کم از کم دو سے تین گھنٹے پہلے کھانا کھا لیا جائے اور رات کے وقت میٹھی یا بھاری غذاؤں سے پرہیز کیا جائے۔
اگر بھوک محسوس ہو تو ہلکی اور آسانی سے ہضم ہونے والی غذائیں بہتر رہتی ہیں، تاکہ نیند اور جسمانی نظام متاثر نہ ہو۔