ٹیلی کمیونیکشن کمپنیاں مکان مالک کو صرف نوٹس دے کر ٹاور لگا لیں گی، انکار پر جرمانہ ہوگا
فائبر کیبل پھیلانے کے نام پر بل قومی اسمبلی سے منظور، سینیٹ میں رک گیا
ٹیلی کمیونیکشن کمپنیوں کی رسائی سے متعلق بل کے اردو متن کا پہلا صفحہ
ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) (ترمیمی) بل 2026: جائیداد کے حقوق پر متنازع ترامیم، قومی اسمبلی سے منظور، سینیٹ میں زیرِ غور
حکومت نے ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر میں تیز رفتار ترقی اور جدید انفراسٹرکچر کی تنصیب کو ممکن بنانے کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 میں اہم ترامیم کا بل پیش کیا۔ جس میں ٹیلی کمیونیکشن کمپنیوں کو صرف دو نوٹس بھیج کر کسی بھی مکان میں ٹاور، یا کیبل لگانے کا اختیار دے دیا گیا ہے، نوٹس کا جواب نہ دینے کو مالک مکان کی رضامندی سمجھا جائے گا اور رکاوٹ ڈالنے پر مالک مکان کو پانچ کروڑ روپے جرمانہ ہوگا
یہ بل قومی اسمبلی سے منظور ہو چکا ہے اور اب سینیٹ میں متعلقہ کمیٹی کے پاس زیرِ غور ہے جہاں بل کا اصل مطلب سامنے آنے کے بعد پرائیویٹ جائیداد کے حقوق سے متعلق شقوں پر مزید جائزہ لیا جا رہا ہے۔
بل کا مقصد ٹیلی کام لائسنس ہولڈرز کو ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر (ٹاورز، فائبر آپٹک کیبلز، ICT سسٹم وغیرہ) کی تنصیب، آپریشن اور مینٹیننس کے لیے پبلک اور پرائیویٹ جائیداد تک رسائی کا حق دینا ہے۔
اس کے تحت نئی شق 27A متعارف کرائی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی مالک، کرایہ دار، لیز ہولڈر یا ادارہ ٹیلی کام کمپنیوں کو انفراسٹرکچر لگانے سے نہیں روک سکتا۔بل کے مطابق ٹیلی کام لائسنس ہولڈر کو متعلقہ جائیداد کے مالک، کرایہ دار یا لیز ہولڈر سے تحریری درخواست بھیجنی ہوگی۔ اگر 21 دن کے اندر کوئی جواب نہ ملے تو درخواست خود بخود منظور سمجھی جائے گی۔ مالک یا کرایہ دار مناسب حالات (جیسے وقت اور طریقہ کار) لگا سکتا ہے لیکن یہ غیر معقول طور پر رسائی میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔
ایک بار رسائی کے حقوق دے دیے جانے کے بعد مالک یا کرایہ دار انہیں یک طرفہ طور پر واپس نہیں لے سکتا اور نہ ہی شرائط تبدیل کر سکتا ہے۔
بل میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ٹیلی کام کمپنی متاثرہ جگہ کو اصل حالت میں بحال کرنے اور نقصان کی تلافی کی ذمہ دار ہوگی۔ اس عمل کے لیے مالک یا کرایہ دار سے کوئی چارجز وصول نہیں کیے جائیں گے۔
نفاذ کی شق 27B کے تحت اگر کوئی مالک، کرایہ دار یا ادارہ رسائی میں رکاوٹ ڈالے یا تاخیر کرے تو مناسب حکومت (وفاقی یا صوبائی) ایک کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کر سکتی ہے۔ تنازع کی صورت میں معاملہ حکومت کے نامزد افسر (سیکریٹری کے درجے سے کم نہ ہو) کے پاس بھیجا جائے گا جو 45 دن کے اندر فیصلہ کرے گا۔

نامزد افسر متعلقہ دستاویزات، ریکارڈز اور وضاحتیں طلب کر سکتا ہے۔
بل میں قومی ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (NTC) کو سٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز ایکٹ 2023 کے دائرے میں لانے، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل نو اور دیگر انتظامی ترامیم بھی شامل ہیں۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ ترامیم ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کو بہتر بنائیں گی، لاگت کم کریں گی اور ملک بھر میں ہموار ٹیلی کام سروسز یقینی بنائیں گی۔تاہم صحافیوں اور شہری حلقوں میں اس بل کی شدید تنقید ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ترامیم نجی جائیداد کے آئینی حقوق (آرٹیکل 23 اور 24) پر حملہ ہیں کیونکہ مالکان کی رضامندی کو عملی طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے اور بھاری جرمانوں کا خوف شہریوں کو اپنے حقوق کے دفاع سے روکے گا۔
سینیٹ کی کمیٹی نے ان خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے شقوں پر مزید غور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ بل اب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے حتمی منظوری کے مرحلے میں ہے۔ اگر منظور ہو گیا تو ٹیلی کام سیکٹر میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں لیکن جائیداد کے مالکان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ممکنہ ترامیم بھی زیرِ بحث ہیں۔