امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط، ویڈیو جاری

14 نکاتی معاہدے کی تفصیلات سامنے آگئیں، معاہدے کا اعلان سب سے پہلے شہباز شریف نے کیا

وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پر الیکٹرانک دستخط کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک نے کشیدگی میں کمی اور حتمی امن معاہدے کی جانب پیش رفت کا اہم قدم اٹھایا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک تفصیلی بیان میں کہا کہ ’’متعلقہ حکومتوں کی اعلیٰ ترین سطح پر اس معاہدے پر دستخط ہونا اس بات کا اظہار ہے کہ فریق تنازع کے سفارتی حل کے لیے پرعزم ہیں۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہو گی اور ابتدائی اقدام کے طور پرایران فوراً آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا اور امریکہ فوری طور پر بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا۔‘‘

بیان کے مطابق ’’پاکستان، شریک ثالث ریاست قطر کی حمایت سے، اس اہم موقع کی یاد میں اور تکنیکی سطح کے مذاکرات کے آغاز کے لیے 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں طے شدہ سرکاری تقریب کی میزبانی کرے گا۔‘‘

وزیر اعظم کے اعلان کے بعد امریکی وائٹ ہاؤس نے بھی تصدیق کی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی 14 نکاتی ’’مفاہمتی یادداشت‘‘ پر الیکٹرانک دستخط کر دیے ہیں۔

دستخط کی ویڈیو اور تصاویر جاری

امریکی اور ایرانی صدور کی جانب سے معاہدے کی توثیق کے تقریباً ایک گھنٹے بعد وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کی ایک ویڈیو جاری کی، جس میں وہ ورسائی کے محل میں کھانے کی میز پر معاہدے سے متعلق دستاویز پر دستخط کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ویڈیو میں فرانسیسی صدر بھی صدر ٹرمپ کے ہمراہ موجود ہیں جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے فراہم کردہ دستاویز پر دستخط ہوتے نظر آتے ہیں۔

ویڈیو کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ کیمرہ معاہدے کے فارسی متن پر دستخط کے لمحے پر مرکوز دکھائی دیا اور صدر ٹرمپ کے ہاتھ کو قریب سے دکھایا گیا۔

چند منٹ بعد ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کی ایک تصویر جاری کی، جس میں وہ کیمرے کے سامنے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ تصویر میں دستاویز کے ایک حصے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط بھی نمایاں تھے۔

60 روز میں حتمی معاہدے کا ہدف

معاہدے کے مطابق امریکہ اور ایران نے 60 روز کے اندر ایک جامع اور حتمی معاہدہ طے کرنے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ باہمی رضامندی سے اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

تمام محاذوں پر جنگ بندی

معاہدے کے پہلے نکتے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، ایران اور ان کے اتحادی لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر بند کریں گے۔

خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام

معاہدے کے مطابق دونوں ممالک ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں گے۔

امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ

چوتھے نکتے کے تحت مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فوراً بعد امریکہ ایران کے خلاف عائد بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا عمل شروع کرے گا اور ایرانی بندرگاہوں پر موجود تمام رکاوٹیں ہٹائی جائیں گی۔

معاہدے کے مطابق حتمی معاہدے پر دستخط کے 30 روز کے اندر امریکہ ایران کے اطراف سے اپنی فوجی موجودگی کم کرتے ہوئے افواج کو ان پوزیشنوں پر واپس لے جائے گا جہاں وہ 28 فروری کو جنگ شروع ہونے سے قبل موجود تھیں۔

آبنائے ہرمز کی بحالی

دستاویز کے مطابق ایران آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی بحالی کے لیے اقدامات کرے گا اور تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے ’’اپنی بہترین کوششوں کا استعمال کرتے ہوئے انتظامات کرے گا۔‘‘

معاہدے میں کہا گیا ہے کہ تکنیکی اور فوجی رکاوٹوں، بشمول بارودی سرنگوں کی صفائی جیسے اقدامات، کو مدنظر رکھتے ہوئے بحری ٹریفک کی بحالی کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے گا۔

ایران کی تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالر کا منصوبہ

معاہدے کے چھٹے نکتے کے مطابق امریکہ اور اس کے علاقائی شراکت دار ایران میں تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر مالیت کا منصوبہ تیار کریں گے۔

پابندیوں کے خاتمے کا عزم

معاہدے میں امریکہ نے ایران پر عائد تمام اقسام کی پابندیوں کے خاتمے کے لیے کام کرنے کا عہد کیا ہے۔ تاہم پابندیاں ختم کرنے کے طریقہ کار اور ٹائم لائن کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔

جوہری ہتھیاروں کی ممانعت

دستاویز کے مطابق دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ایران اپنے افزودہ جوہری مواد کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں ’’موقع پر ملا کر غیر مؤثر‘‘ بنانے پر آمادہ ہوگا۔

جوہری پروگرام پر ’سٹیٹس کو‘ برقرار

معاہدے کے نویں اور دسویں نکات کے مطابق افزودہ یورینیم کے مسئلے کے حل تک ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق موجودہ صورتحال برقرار رکھی جائے گی۔

اس دوران امریکہ نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا جبکہ ایران کو تیل، پیٹرولیم مصنوعات، بینکاری لین دین اور نقل و حمل سمیت بعض شعبوں میں رعایتیں فراہم کی جائیں گی۔

منجمد اثاثوں کی بحالی

دستاویز کے گیارہویں نکتے میں کہا گیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد امریکہ ’’مکمل طور پر منجمد یا محدود فنڈز فراہم کرنے کا عہد کرتا ہے‘‘ جبکہ اس کے عملی طریقہ کار پر بعد ازاں مذاکرات میں اتفاق کیا جائے گا۔

ایک امریکی اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ ایران کے بعض منجمد اثاثے مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے جبکہ یہ عمل معاہدے پر عمل درآمد سے مشروط ہوگا، خصوصاً افزودہ یورینیم سے متعلق اقدامات کے حوالے سے۔

نگرانی کا نظام اور اقوام متحدہ کی توثیق

معاہدے کے آخری نکات میں مفاہمتی یادداشت اور مستقبل کے حتمی معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ نظام قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاہم اس نظام کی عملی شکل ابھی واضح نہیں کی گئی۔

دستاویز کے مطابق حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔

یہ مفاہمتی یادداشت امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد سامنے آنے والی اہم ترین سفارتی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے، جس کا مقصد جنگ بندی، علاقائی استحکام، پابندیوں کے خاتمے اور جوہری تنازع کے حل کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرنا ہے۔