چناب منصوبوں پر تنازع،پاکستان نے بھارت کو سخت انتباہ جاری کر دیا

سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس میں کسی بھی فریق کو یکطرفہ طور پر تبدیلی یا معطلی کا اختیار حاصل نہیں۔

June 18, 2026 · قومی

پاکستان نے بھارت کی جانب سے دریائے چناب پر نئے آبی منصوبوں اور پانی کو بطور “اسٹریٹجک ہتھیار” استعمال کرنے کے الزامات کے تناظر میں اپنے سخت مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی کسی بھی یکطرفہ خلاف ورزی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

قومی سلامتی کمیٹی کے 24 اپریل 2026 کے اعلامیے کے بعد پاکستان نے واضح کیا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس میں کسی بھی فریق کو یکطرفہ طور پر تبدیلی یا معطلی کا اختیار حاصل نہیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق پانی ملک کی بقا اور کروڑوں افراد کی زندگی کا بنیادی ذریعہ ہے، اور اس کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا تبدیلی کو قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔

دوسری جانب بھارت کی طرف سے چناب بیسن میں مختلف ہائیڈرو اور لنک منصوبوں پر کام تیز کیے جانے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں، جن میں پانی کے ذخیرے اور رخ موڑنے سے متعلق اقدامات بھی شامل ہیں۔

اسلام آباد کے مطابق بھارت کا مجوزہ چناب-بیاس لنک منصوبہ معاہدے کی روح کے منافی ہے، کیونکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت مغربی دریا پاکستان کے غیر مشروط استعمال کے لیے مختص ہیں۔

پاکستانی مؤقف میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی منصوبے کے ذریعے بہاؤ میں کمی، رخ موڑنے یا ڈیٹا شیئرنگ میں رکاوٹ پیدا کی گئی تو اسے معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق دریائے چناب اور دیگر مغربی دریا پاکستان کے زرعی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اور ان پر انحصار کرنے والے علاقوں میں پانی کی دستیابی براہِ راست غذائی تحفظ اور معیشت سے جڑی ہے۔

پاکستان نے اس صورتحال کے جواب میں اپنے اندرونی آبی نظام کو مضبوط بنانے، ذخائر میں اضافہ کرنے اور نئے ڈیمز و لنک کینال منصوبوں پر تیزی سے کام کرنے کی حکمت عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔

حکام کے مطابق آئندہ برسوں میں پانی کے مؤثر استعمال، نہری نظام کی بہتری اور سیلابی پانی کے ذخیرے کو یقینی بنانے کے اقدامات کو ترجیح دی جائے گی تاکہ ممکنہ دباؤ کا مؤثر طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔

پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پانی کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں تمام قانونی اور سفارتی آپشنز استعمال کیے جائیں گے۔