بجٹ میں ٹیکس نہ لگا،سولر پینلز ذخیرہ کرنے والے برباد،قیتمیں گر گئیں

مارکیٹ ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں مزید گرنے کا امکان ہے

June 18, 2026 · امت خاص

وفاقی بجٹ 2026-27 میں سولر پینلز پر اضافی ٹیکس نہ لگانے کے فیصلے کے بعد مارکیٹ میں سولر پلیٹوں کی قیمتیں تیزی سے گر رہی ہیں۔ بجٹ سے پہلے افواہوں کے باعث تاجروں نے بڑا اسٹاک جمع کر لیا تھا جس سے قیمتیں 4 ہزار سے 9 ہزار روپے فی پلیٹ تک بڑھ گئی تھیں، مگر اب یہ اضافہ واپس ہوتا جا رہا ہے۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں مزید گرنے کا امکان ہے۔مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف برانڈز اور واٹیج کے سولر پینلز کی موجودہ قیمتوں میں 4ہزارسے 9ہزار روپے فی پلیٹ تک کمی آئی ہے۔ کینیڈین سولر 49 فی واٹ پر فروخت ہو رہا ہے جس کی قیمت 50 پر چلی گئی تھی، لونگی کی قیمت 49 ہے، جنکو 46 روپے پر آگیاہے جو 48 پر چلا گیا تھا،جے اے سولر 45 روپے پر آگیا ہے۔

عام اے گریڈ585 سے 615 واٹ پلیٹس اب22ہزارسے26 ہزارروپے کے درمیان دستیاب ہیں۔این ٹائپ بائی فیشل اعلیٰ کوالٹی پلیٹس اب 38 سے 47 روپے فی واٹ (تقریباً 25 ہزارسے35 ہزار روپے فی پلیٹ) فروخت ہو رہی ہیں۔

بجٹ سے قبل یہ قیمتیں7 ہزارسے لے کر 9 ہزار روپے تک بڑھ گئی تھیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مارکیٹ کی قدرتی اصلاح ہے۔ جن تاجروں نے قیمتیں بڑھنے کی توقع میں سٹاکنگ کی تھی، انہیں اب نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ دوسری جانب عام صارفین کے لیے سولر سسٹم لگانا دوبارہ سستا ہو گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے سولر سیکٹر کو سپورٹ دینے والے اس فیصلے کو صارفین کے لیے بڑا ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔ مارکیٹ میں مزید کمی آنے کی توقع ہے جب تاجر اپنا پرانا مہنگا اسٹاک کلیئر کریں گے۔