ایرانی وفد سوئٹز رلینڈ میں ہونے والے 4 فریقی مذاکرات مکمل ہونے کے بعد واپس روانہ
امریکا، ایران مذاکرات تعطل کا شکار ، ختم نہیں ہوئے، امریکی میڈیا
فوٹو سوشل میڈیا
برگن اسٹاک:ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی وفد سوئٹز رلینڈ میں ہونے والے 4 فریقی مذاکرات مکمل ہونے کے بعد واپس روانہ ہوگیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق ایرانی وفد سوئٹز رلینڈ میں ہونے والے 4 فریقی مذاکرات مکمل ہونے کے بعد واپس روانہ ہوگیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر کی دھمکیوں کے بعد ایرانی وفد نے امریکی وفد سے شدید احتجاج کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے پہلے مرحلے میں پاکستان کی ثالثی کے تحت امریکا اور ایران کی اعلیٰ سطح کمیٹیوں کے درمیان 45 منٹ تک تفصیلی بات چیت ہوئی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پہلے راؤنڈ میں لبنان کی صورتحال، آبنائے ہرمز، ایرانی جوہری ذخائر اور آئندہ 60 روزہ مذاکراتی عمل کے خدوخال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان واضح اور کھل کر گفتگو ہوئی۔
دوسری جانب ایرانی وفد سے متعلقہ امریکی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے ہیں لیکن ختم نہیں ہوئے ہیں۔
ایرانی ذرائع کے مطابق برگن اسٹاک میں مذاکرات میں سفارتی وفود کی واپسی کےلیے بیک چینل بات چیت ہورہی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے ایرانی وفد کے رکن مہدی قربان زادہ کے بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ایرانی تیل پر نرمی کے حوالے سے تجویز کا حتمی مسودہ مکمل کرلیا ہے۔
مہدی قربان زادہ نے مزید کہا کہ لبنان کے مسئلے کے حل تک دوسرے معاملات پر مزید بات چیت نہیں ہوگی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات میں منجمد اثاثوں کی بحالی کے انتظامات پر بات چیت کی ہے، مذاکرات میں ایران کے توانائی کے شعبے پر پابندیوں میں نرمی پر توجہ مرکوز کی گئی۔