ایرانی صدر کی آمد: فیض آباد کے تمام بس اڈے آج رات تک بند
ٹرانسپورٹرز کو متبادل مقامات پر گاڑیاں پارک کرنے کی ہدایت
فائل فوٹو
اسلام آباد: ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے اہم ترین سرکاری دورہ پاکستان کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کر دیے گئے ہیں اور جڑواں شہروں (راولپنڈی اور اسلام آباد) کے درمیان آمد و رفت سمیت عام شہریوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے جامع پلان نافذ کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایرانی وفد کی آمد اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والے اہم ترین مقام فیض آباد کے تمام بس اڈوں کو آج رات 9 بجے تک مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، جس کے باعث ٹرانسپورٹرز کو متبادل مقامات پر گاڑیاں پارک کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
علاوہ ازیں ایرانی صدر اور ان کے وفد کی ممکنہ رہائش گاہ کے اطراف سیکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لیے اسلام آباد سرینا ہوٹل کے ارد گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری تعینات کر کے سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور ہوٹل جانے والے راستوں پر سخت تلاشی کا عمل جاری ہے۔
انتظامیہ کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے انتہائی حساس علاقے ریڈ زون کو آج رات 12 بجے مکمل طور پر سیل کر دیا جائے گا اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص یا گاڑی کو ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ شہریوں کو زحمت سے بچنے کے لیے متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق ایرانی صدر اپنے اس ایک روزہ دورے کے دوران صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف سمیت دیگر اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے، جس کے پیش نظر سیکیورٹی کے یہ غیر معمولی اقدامات کیے گئے ہیں۔