ایٹمی معائنے کے بارے میں امریکہ اور ایرانی بیانات میں واضح تضاد
ٹرمپ کی گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا پر پے در پے پوسٹس ،ایرانی حکومت نےامریکی دعوے کی سختی سے تردید کی۔
فائل فوٹو
واشنگٹن : ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی اور وہاں بین الاقوامی معائنہ کاروں کی واپسی کے حساس معاملے پر واشنگٹن اور تہران کے بیانات میں ایک بار پھر واضح تضاد سامنے آیا ہے۔
گزشتہ چند روز کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے صبح سویرے ہی معائنہ کاروں کو الرٹ کرنے اور انہیں ایران کی جوہری تنصیبات کا معائنہ کرنے کے لیے تیار کرنے کے حوالے سے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا پر پے در پے پوسٹس کیں، جن میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام ہتھیاروں کے معائنہ کاروں کو اپنے ایٹمی مراکز میں داخلے، جانچ پڑتال اور مانیٹرنگ کی اجازت دینے پر راضی ہو گئے ہیں۔
تاہم ایرانی حکومت نے اس امریکی دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ صورتحال ایسی بالکل نہیں ہے اور معائنہ کاروں کی واپسی کے حوالے سے کوئی نیا معاہدہ یا اتفاقِ رائے نہیں ہوا ہے۔
اس واضح تضاد کے باوجود، صدر ٹرمپ نے معائنہ کاروں کے معاملے پر اصرار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ (معائنہ کار) اپنے “مناسب وقت” پر ایران ضرور جائیں گے۔
یہ تنازع ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے لیے صرف 60 دن کا وقت طے پایا ہے۔ اس مقررہ مدت کے اندر ایران کے جوہری پروگرام جیسے انتہائی پیچیدہ اور اہم ترین تنازعات کا حتمی حل تلاش کرنا دونوں فریقین کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔