امریکی سینیٹ کی قرار داد پر ٹرمپ کی شدید تنقید

کانگریس کی قرار داد کو ’بے وقت اور بے معنی‘ قدم قرار دے دیا

June 24, 2026 · بام دنیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے سے متعلق کانگریس کی قرار داد کو ’بے وقت اور بے معنی‘ قدم قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ نے لکھا کہ ’میں ایران کو تقریباً شکست کے دہانے پر لے آیا تھا، وہ ہارنے والا تھا، ہمیں عملی طور پر ہر چیز دینے کو آمادہ تھا، اور دہائیوں میں پہلی بار امریکہ اور اس کے صدر، یعنی مجھے، مکمل احترام دے رہا تھا۔

ٹرمپ کے مطابق ایسے وقت میں ’امریکی سینیٹ نے وار پاورز ایکٹ (جنگ سے متعلق اختیار کا قانون) پر بے وقت اور بے معنی ووٹ کیا، جس سے دنیا میں دہشت گردی کے سب سے بڑے سرپرست کو یہ پیغام دیا گیا کہ امریکہ میرے اقدامات سے خوش نہیں ہے اور مجھے رکنا ہو گا۔

سوشل میڈیا پوسٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ ’اس طرح دشمن کو فائدہ اور سہولت فراہم کی گئی۔

انھوں نے مزید کہا کہ چار نکمے ریپبلکنز نے بھی ڈیموکریٹس کے ساتھ ووٹ دیا، اور ایران نے میرے لوگوں سے پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ ان سینیٹرز نے میرا کام مزید مشکل بنا دیا ہے، مگر میں اسے کسی نہ کسی طریقے سے مکمل کر کے رہوں گا۔ کیوں کہ میں ہمیشہ کام مکمل کرتا ہوں۔

واضح رہے کہ امریکہ کی ریپبلکن اکثریتی سینیٹ نے 48 کے مقابلے پر 50 ووٹوں سے ایک قرار داد منظور کی ہے جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ روکیں یا فوجی کارروائی جاری رکھنے کے لیے کانگریس کی منظوری حاصل کریں۔