اسرائیل کا جنوبی لبنان سے فوج نکالنے سے صاف انکار، امریکی دباؤ کی تردید

امریکہ کی طرف سے اسرائیل سے لبنان چھوڑنے کا کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا۔اسرائیلی وزیر دفاع

June 24, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

تل ابیب:اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے اسرائیل پر جنوبی لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانے کے لیے کوئی دباؤ یا مطالبہ نہیں کیا گیا، اور اسرائیل کسی بھی صورت وہاں سے پسپائی اختیار نہیں کرے گا۔

تل ابیب میں مقامی رہنماؤں کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا تھا ہم پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ ہم کسی بھی صورت لبنان سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اب تک کی صورتحال کے مطابق جو  ہماری ایک سفارتی کامیابی ہے،امریکہ کی طرف سے اسرائیل سے لبنان چھوڑنے کا کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا۔

جب اسرائیلی وزیر دفاع سے سوال پوچھا گیا کہ اگر مستقبل میں امریکہ کی جانب سے ایسی کوئی درخواست یا مطالبہ سامنے آتا ہے تو کیا اسرائیلی فوج اس پر عمل کرے گی؟ اس کے جواب میں اسرائیل کاٹز نے بتایا کہ انہوں نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو جبکہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پہلے ہی یہ باور کرا دیا ہے کہ “ہم وہاں (لبنان میں) صرف اپنے شمالی علاقوں کے شہریوں کے تحفظ کے لیے موجود ہیں۔

اسرائیلی قیادت کے ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ سفارتی کوششوں اور سمجھوتوں کے باوجود، اسرائیل جنوبی لبنان میں قائم کردہ اپنے “سیکیورٹی زون” پر مستقل کنٹرول برقرار رکھنے پر بضد ہے۔