ایران تنازع:اٹلی سے 500 امریکی طیاروں نے پرواز کی،نیٹو سربراہ
یہ اقدامات ایران کے خلاف کیے گئے ایک فوجی آپریشن کی معاونت کے تناظر میں کیے گئے۔
نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے انکشاف کیا ہے کہ اٹلی نے اپنے علاقے میں موجود امریکی فوجی اڈوں سے بڑی تعداد میں امریکی طیاروں کی پروازوں کی اجازت دی تھی۔ ان کے مطابق یہ اقدامات ایران کے خلاف کیے گئے ایک فوجی آپریشن کی معاونت کے تناظر میں کیے گئے۔
ایک بین الاقوامی میڈیا ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں مارک روٹے نے بتایا کہ اٹلی کے فوجی اڈوں سے سینکڑوں امریکی طیاروں نے پروازیں کیں، جن کا مقصد متعلقہ آپریشن کے لیے لاجسٹک اور عملی تعاون فراہم کرنا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس دوران خطے کے بعض دیگر ممالک میں فضائی سرگرمیوں کے معمولات بھی متاثر ہوئے۔ ان کے مطابق رومانیہ کے دارالحکومت بخارسٹ کے ہوائی اڈوں کو ایندھن بھرنے والے طیاروں کی سہولت فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، جس کے باعث وہاں فضائی ٹریفک میں عارضی کمی دیکھنے میں آئی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث بین الاقوامی توجہ خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر مرکوز ہے۔ مختلف ممالک اور عالمی ادارے صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں جبکہ علاقائی استحکام سے متعلق سفارتی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔