ایئر انڈیا کا طیارہ پاکستان میں داخل
واقعے کے دوران دونوں ممالک کے فضائی ٹریفک حکام کے درمیان رابطہ برقرار رہا
پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی حدود کی پابندیوں کے باوجود ایئر انڈیا کا ایک مسافر طیارہ مختصر وقت کے لیے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوگیا، جس کے بعد بھارتی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے متعلقہ اہلکاروں کے کردار کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
ایئر انڈیا کے مطابق دہلی سے امرتسر جانے والی پرواز کو دورانِ پرواز ایک تکنیکی صورتحال اور فضائی ٹریفک ہدایات کے باعث مخصوص فضائی راستے پر انتظار کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اسی دوران ریڈار گائیڈنس کے مرحلے میں طیارہ چند لمحوں کے لیے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوا، تاہم بعد ازاں صورتحال کو معمول کے مطابق سنبھال لیا گیا اور پرواز بحفاظت واپس دہلی پہنچ گئی۔
رپورٹس کے مطابق واقعے کے دوران دونوں ممالک کے فضائی ٹریفک حکام کے درمیان رابطہ برقرار رہا، جس کے نتیجے میں پرواز کو محفوظ انداز میں اپنے مقررہ راستے پر واپس لایا گیا۔
ایئر انڈیا نے واقعے کی اندرونی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق متعلقہ فضائی ٹریفک کنٹرول عملے اور دیگر ذمہ دار اہلکاروں کے کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ واقعہ کن حالات میں پیش آیا اور مقررہ طریقہ کار پر کس حد تک عمل کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق خراب موسم، تکنیکی وجوہات یا ہنگامی حالات میں بین الاقوامی ہوا بازی کے قوانین کے تحت طیاروں کو مسافروں کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے متبادل راستے اختیار کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ ایسے واقعات غیر معمولی ضرور ہوتے ہیں، تاہم عالمی ہوا بازی کے نظام میں ان سے نمٹنے کے لیے واضح ضابطے موجود ہیں۔