مسجد کو آگ لگانے پر 6 یہودی آبادکاروں پر دہشت گردی کی فردِ جرم عائد

حملہ آوروں نے اس وقت مسجد کے دروازے کو آگ لگائی جب اندر نمازی موجود تھے

June 26, 2026 · بام دنیا

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک مسجد کو آگ لگانے اور شہریوں پر حملے کے الزام میں چھ یہودی آبادکار نوجوانوں کے خلاف دہشت گردی سمیت متعدد سنگین دفعات کے تحت فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے 14 جون کو دیگر افراد کے ساتھ مل کر رام اللہ کے مشرق میں واقع گاؤں دیر دبوان پر حملہ کیا۔ استغاثہ کے مطابق حملہ آور چہرے ڈھانپے ہوئے تھے اور آتش گیر مواد سمیت مختلف ہتھیاروں سے لیس تھے۔

تحقیقات کے مطابق حملہ آوروں نے اس وقت مسجد کے دروازے کو آگ لگائی جب اندر نمازی موجود تھے، جبکہ ایک نمازی پر اسپرے کیے جانے سے وہ زخمی بھی ہوا۔ اس دوران متعدد گھروں، گاڑیوں اور زرعی اراضی کو بھی آگ لگا دی گئی۔

اسرائیلی پراسیکیوٹرز کے مطابق چھ ملزمان میں پانچ نابالغ جبکہ ایک کی عمر 18 سال ہے۔ ان پر دہشت گردی، آتش زنی، فسادات، نسل پرستی پر مبنی حملوں، املاک کو نقصان پہنچانے اور نسلی منافرت پر مبنی جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے کی سماعت یروشلم کی ضلعی عدالت میں ہوگی، جہاں ملزمان کے خلاف مختلف سنگین الزامات کے تحت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔