آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار۔ ایران نے امریکی دعویٰ مسترد کر دیا
امریکہ اور ایران میں رابطے پر اختلاف، کشیدگی کم کرنے کی کوششیں غیر یقینی
آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے کے معاملے پر دونوں ممالک کے مؤقف میں واضح اختلاف سامنے آ گیا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مواصلاتی رابطہ قائم کیا گیا ہے۔
تاہم ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کوئی رابطہ چینل نہ قائم کیا گیا ہے اور نہ ہی آئندہ قائم کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی کے بعد اب بنیادی سوال یہ ہے کہ حالات کو کس طرح معمول پر لایا جائے، خصوصاً اس تناظر میں کہ آئی آر جی سی نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس نوعیت کی کارروائیاں دوبارہ ہوئیں تو ایران کا جواب پہلے سے زیادہ سخت اور وسیع ہوگا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر ایک جانب آئی آر جی سی جہازوں کو روکتی رہی اور دوسری جانب امریکا ایرانی فوجی تنصیبات پر حملے جاری رکھتا ہے تو اس سے دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی یادداشتِ مفاہمت (ایم او یو) اور جاری مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں۔