ورلڈ کپ میں مسلمان فٹبالرز کے لیے الگ ٹرافی ڈیزائن توجہ کا مرکز بن گیا
مسلمان کھلاڑیوں کو دی جانے والی ٹرافی سے الکوحل بنانے والی کمپنی کا لوگو ہٹا دیا گیا ہے
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران میدان سے باہر بھی ایک اہم تبدیلی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق فیفا نے مسلمان فٹبالرز کے مذہبی عقائد کا احترام کرتے ہوئے “پلیئر آف دی میچ” ٹرافی میں تبدیلی کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق مسلمان کھلاڑیوں کو دی جانے والی ٹرافی سے الکوحل بنانے والی کمپنی کا لوگو ہٹا دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا اور اسپورٹس پلیٹ فارمز پر سامنے آنے والی تصاویر میں مختلف کھلاڑیوں کو دی گئی ٹرافیوں میں فرق دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد اس تبدیلی پر وسیع بحث جاری ہے۔
دوسری جانب فیفا ورلڈ کپ 2026 میدان کے اندر بھی نئے ریکارڈز قائم کر رہا ہے۔ گروپ مرحلہ مکمل ہونے سے پہلے ہی ٹورنامنٹ میں گولز کی تعداد سابقہ تمام ورلڈ کپ ایڈیشنز سے زیادہ ہو چکی ہے۔ امریکا اور ترکی کے درمیان میچ میں ہونے والا 173واں گول اس حوالے سے نیا عالمی ریکارڈ قرار دیا جا رہا ہے، جس نے گزشتہ ورلڈ کپ کے 172 گولز کا ریکارڈ پیچھے چھوڑ دیا۔
اسی ٹورنامنٹ میں ارجنٹائن کے اسٹار فٹبالر لیونل میسی بھی ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بننے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں، جبکہ یہ ایونٹ کم ترین مدت میں 100 گولز کا سنگ میل عبور کرنے والا ورلڈ کپ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر ایران اور مصر کے درمیان گروپ مرحلے کا اہم مقابلہ بھی توجہ کا مرکز ہے، جہاں دونوں ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی کے لیے میدان میں اتریں گی۔ میچ سے قبل ایرانی گول کیپر علی رضا بیرانوند نے مصری ٹیم کو مضبوط حریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم کا ہدف بہترین کھیل پیش کر کے اپنے شائقین کو خوشی دینا ہے۔