بھارتی جیل میں انتقال کرنے والے5سال سےقیدماہی گیر کی کراچی میں تدفین
ان کی میت واہگہ بارڈر پر پاکستانی حکام کے حوالے کی گئی
فائل فوٹو
کراچی میں بھارتی جیل میں 5 برس سے قید کے دوران انتقال کرجانے والے ماہی گیر کی میت کراچی منتقل کی گئی، جہاں اسے مواچھ گوٹھ قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔
مرحوم کی نماز جنازہ ہفتہ کے روز بدر گراؤنڈ کیماڑی میں ادا کی گئی جس میں اہلخانہ، عزیز و اقارب اور اہل علاقہ نے شرکت کی۔
مرحوم ماہی گیر اسماعیل بن ابراہیم کے داماد عبدالغنی نے بتایا کہ ان کے سسر 75 سالہ اسماعیل ماہی گیر تھے جو 2021 میں مچھلیاں پکڑنے کے لیے لانچ پر سمندر میں گئے تھے، جہاں بھارتی بحریہ نے ان کی لانچ کو پکڑ کر اس پر موجود ماہی گیروں کو جیل منتقل کردیا تھا، اور دوران قید وہ انتقال کرگئے۔
انہوں نے بتایا کہ بظاہر ان کی موت طبعی معلوم ہوتی ہے تاہم وہ شوگر کے مریض تھے۔ ان کی میت واہگہ بارڈر پر پاکستانی حکام کے حوالے کی گئی جہاں سے ایدھی فاؤنڈیشن کی کوششوں سے فلائٹ کے ذریعے لاہور سے کراچی منتقل کی گئی۔
کراچی ایئرپورٹ سے مرحوم کی میت ایدھی ایمبولینس کے ذریعے کیماڑی منتقل کی گئی جہاں اہلخانہ شدید غم سے نڈھال تھے۔
کمال شاہ (ترجمان کوسٹل میڈیا سینٹر) نے بتایا کہ کراچی سمیت سندھ کی ساحلی پٹی کی آبادیوں کے 80 ماہی گیر بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔