غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے شدت اختیار کرگئے۔ متعدد فلسطینی شہید
المصدر گاؤں میں اسرائیلی فوج مزید 500 میٹر اندر داخل، شہریوں میں خوف و ہراس
غزہ سے رپورٹ کرنے والے صحافی طارق ابو عزوم کے مطابق اسرائیل نے ہفتے کے روز غزہ پر فضائی حملوں میں مزید شدت پیدا کر دی ہے، جن میں زیادہ تر غزہ سٹی اور المواصی کے علاقوں میں قائم عارضی خیموں کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق المواصی وہ علاقہ ہے جسے گزشتہ سال طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت محفوظ زون قرار دیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں۔
ان فضائی حملوں میں متعدد فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے، جبکہ حملوں سے قبل کسی قسم کی پیشگی وارننگ بھی جاری نہیں کی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی کے مشرقی علاقوں میں اپنی زمینی کارروائیاں بھی وسیع کر دی ہیں اور نام نہاد “ییلو لائن” کی حدود کو مزید آگے بڑھا دیا ہے۔
وسطی غزہ کے متعدد خاندانوں نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوج المصدر گاؤں میں تقریباً 500 میٹر (550 گز) مزید اندر تک پیش قدمی کر چکی ہے، جہاں زرد رنگ کے کنکریٹ بلاکس اس سرحدی حدبندی کی علامت تھے۔ اس پیش رفت کے بعد مقامی شہریوں کی جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
طارق ابو عزوم کے مطابق غزہ میں جنگ بندی صرف کاغذی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ اسرائیلی فضائی حملے روزانہ کی بنیاد پر بلا تعطل جاری ہیں اور زمینی صورتحال میں کسی حقیقی جنگ بندی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔