یاسین ملک پر 36 برس پرانے قتل کیس میں فرد جرم عائد
ایک نرس کو 1990 میں اغوا کے بعد ہلاک کیا گیاتھا
فائل فوٹو
مقبوضہ کشمیر کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (SIA) نے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے اغوا اور قتل کے مقدمے میں 36 سال بعد جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک سمیت پانچ افراد کے خلاف 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ دائر کر دی ہے۔
سرلا بھٹ، شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (SKIMS) کی سٹاف نرس تھیں۔ 18 اپریل 1990 کو سرینگر کے صورہ علاقے میں SKIMS ہاسٹل سے انہیں اغوا کیاگیا۔ اگلے روز ان کی گولیوں سے چھلنی لاش اسپتال سے چند کلومیٹر دور ملی تھی۔ لاش کے ساتھ ایک پرچی بھی تھی جس میں انہیں مبینہ طور پر مخبرقرار دیا گیا تھا۔
تفتیشی ادارے نے عدالت میں پیش کی گئی چارج شیٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ قتل کوئی انفرادی واقعہ نہیں تھا بلکہ جے کے ایل ایف کی قیادت کے تحت رچی گئی ایک منظم سازش کا حصہ تھا۔ ایجنسی کے مطابق ملزمان نے طے شدہ منصوبے کے تحت سرلا بھٹ کو اغوا کیا، تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر قتل کر دیا۔ تحقیقات میں گواہوں کے بیانات، عینی شاہدین، فرانزک، بیلسٹک، طبی شواہد اور دیگر دستاویزی ثبوتوں کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ قتل کشمیری پنڈت برادری میں خوف پھیلانے اور انہیں وادی چھوڑنے پر مجبور کرنے کی منظم مہم کا حصہ تھا۔
چارج شیٹ میں نامزد پانچ ملزمان میں یاسین ملک کے علاوہ خورشید احمد چلکو، عبدالحمید شیخ، محمد یوسف صوفی عرف ادریس اور غلام محمد ٹپلو شامل ہیں۔ عبدالحمید شیخ، محمد یوسف صوفی اور غلام محمد ٹپلو کا انتقال ہو چکا ہے۔ یاسین ملک دہلی کی تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ خورشید احمد چلکو مفرور ہیں جن کے خلاف اشتہاری کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ایس آئی اے کا کہنا ہے کہ خورشید احمد چلکو پر سرلا بھٹ پر گولی چلانے کا الزام ہے اور وہ بعد میں آزادکشمیر فرار ہو گیا تھا۔
مقبوضہ کشمیر پولیس نے کہا ہے کہ وقت گزرنے سے جرائم مٹ نہیں جاتے اور دہشت گردی کے ذمہ دار افراد کو قانون کے سامنے جوابدہ ہونا ہی پڑے گا۔
دوسری جانب یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے اسلام آباد سے جاری بیان میں اس کارروائی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ 36 سال پرانے کیس میں نئی چارج شیٹ سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوت شدہ افراد کے نام پر مقدمہ بھارتی عدالتی نظام پر سوالیہ نشان ہے اور یاسین ملک کی عمر قید کو سزائے موت میں بدلنے کی کوشش انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ملزمان پر رنبیر پینل کوڈ، ٹاڈا اور انڈین آرمز ایکٹ سمیت اغوا، قتل، مجرمانہ سازش، دہشت گردی اور ثبوت مٹانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔تفتیشی ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ماضی کے ادھورے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کا حصہ ہے۔
واضح رہے کہ 2017 میں بھارتی سپریم کورٹ نے کشمیری پنڈتوں کے کئی قتل کے مقدمات دوبارہ کھولنے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ ان ہلاکتوں کو تقریباً تین دہائیاں بیت چکی ہیں، اس لیے معتبر شواہد اور گواہان حاصل کرنا مشکل ہے۔
بھارتی اخبار ہندستان ٹائمزکے مطابق ، 2023 میں کشمیری پنڈت تنظیموں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی طرف رجوع کیا، جنہوں نے پولیس کو 1990 کی دہائی کے دوران قتل کیسز کی فہرست تیار کرنے کی ہدایت کی۔ اس کے بعد سرلا بھٹ کے مقدمے کو مارچ 2024 میں تازہ تفتیش کے لیے اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (SIA) کے سپرد کیاگیا۔