غزہ جنگ بندی مذاکرات میں پیش رفت کی کوششیں۔کئی اہم رکاوٹیں برقرار
حماس وفد کے قاہرہ میں اہم مذاکرات، جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد بدستور تعطل کا شکار
حماس کے ایک وفد نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں مصری اور ترک انٹیلی جنس حکام سے ملاقاتیں کی ہیں تاکہ امریکہ گزشتہ سال اکتوبر میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ کیا گیا تھا، جبکہ اسرائیل کے غزہ سے انخلا کا بھی وعدہ کیا گیا تھا۔ تاہم تقریباً دس ماہ گزرنے کے باوجود معاہدے پر مکمل عملدرآمد میں کئی بڑی رکاوٹیں بدستور موجود ہیں۔
غزہ میں موجود آخری اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے سینکڑوں فلسطینی قیدی آزاد کیے جا چکے ہیں، لیکن اسرائیل پر الزام ہے کہ وہ معاہدے کے پہلے مرحلے کی متعدد شقوں پر عمل نہیں کر رہا، جن میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور ہزاروں بیمار و زخمی فلسطینیوں کے طبی انخلا کی اجازت شامل ہے۔
ادھر جنگ بندی کے باوجود اسرائیل غزہ پر تقریباً روزانہ حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان حملوں میں جنگ بندی کے بعد سے اب تک ایک ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل غزہ کے 70 فیصد سے زیادہ علاقے پر اپنا کنٹرول بھی قائم کر چکا ہے۔
غزہ میں انسانی صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ تقریباً 20 لاکھ افراد کی اکثریت والے خیمہ بستیوں میں رہنے پر مجبور ہے، جہاں صفائی، طبی سہولیات اور بنیادی ضروریات کی شدید کمی ہے اور چوہوں کی بھرمار بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔
حماس نے اسرائیلی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ زیرِ قبضہ عوام کو اسلحے سے محروم کرنا انہیں “آسان شکار” بنا دے گا۔
دوسری جانب سابق فلسطینی اتھارٹی وزیر علی شعث کی سربراہی میں غزہ کے انتظام کے لیے جنوری میں ایک ٹیکنوکریٹک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، تاہم اسے اب تک غزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں مل سکی۔