دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں ایران نے 40 ملین بیرل تیل برآمد کیا۔اسپیکر قالیباف
ایران کی اصل ضمانت اس کی عسکری قوت ہے
ایرانی پارلیمان کے سپیکر اور امریکہ کے ساتھ مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے سرکاری میڈیا کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد دو ہفتوں سے کم عرصے میں 40 ملین بیرل سے زائد تیل برآمد کیا ہے۔
انھوں نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف عائد بحری پابندیوں کا خاتمہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عسکری طاقت کے ساتھ سفارت کاری بھی ٹھوس نتائج دے سکتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران کی اصل ضمانت اس کی عسکری قوت ہے، اسی لیے اس کا میزائل پروگرام اور دفاعی صلاحیتیں ’کسی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں بن سکتیں۔
قالیباف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران اپنے جوہری حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ ان کے بقول ’یورینیم کی افزودگی ہمارا جائز اور ناقابلِ تنسیخ حق ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت حتمی معاہدے کے لیے دی گئی 60 روزہ مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے، اور مذاکرات اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک امریکہ اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے عائد تمام بنیادی اور ثانوی پابندیاں ختم نہیں ہو جاتیں۔
اسی انٹرویو میں قالیباف نے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں سمندری خدمات کے نظم و نسق کے حوالے سے قانونی اور سروس سے متعلق تمام امور پر اتفاق ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات اس وقت تک آگے نہیں بڑھیں گے جب تک مفاہمتی یادداشت کی پانچ شقوں پر عملدرآمد نہیں ہوتا، جن میں لبنان میں کشیدگی کا خاتمہ، ایرانی تیل کی برآمدات کو یقینی بنانا اور منجمد اثاثوں کی رہائی شامل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایران، امریکہ اور لبنان نے ایک ’ڈی کنفلکشن سیل‘ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا ہے، اور تہران اور واشنگٹن اس کے لیے اپنے نمائندے مقرر کر چکے ہیں جبکہ بیروت کی جانب سے بھی جلد نامزدگی متوقع ہے۔
قالیباف کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا مقصد لبنان کی خودمختاری کا تحفظ ہے، جبکہ امریکہ کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والا الگ فریم ورک اسرائیل کی سکیورٹی کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے قالیباف نے کہا کہ ایران اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنی خودمختاری برقرار رکھے گا اور مفاہمتی یادداشت کے تحت دی گئی 60 روزہ رعایت صرف عارضی نوعیت کی ہے، جس کے تحت سمندری خدمات کی فیس میں چھوٹ دی گئی ہے۔
ان کے بقول ’یہ ہمارے علاقائی پانی ہیں اور ہم امریکہ کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ یہ تاثر دے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو عسکری شکل دے دی ہے۔