ایران کو 3 ارب ڈالر دینے پر عبوری اتفاق
ایران اپنی ضروریات کے مطابق انسانی اور دیگر بنیادی اشیاء کی خریداری کر سکے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کے مطابق دوحہ میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور تہران و واشنگٹن کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق مذاکرات کا ایک مرحلہ مکمل ہوگیا ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق کاظم غریب آبادی نے بتایا کہ مذاکرات میں شریک فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر ایک مشترکہ مواصلاتی چینل قائم کیا جائے گا، جس کے ذریعے مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کی نگرانی کی جائے گی اور کسی بھی ممکنہ خلاف ورزی کو ریکارڈ کیا جا سکے گا۔
رپورٹس کے مطابق مذاکرات کے دوران ایران کے منجمد فنڈز سے متعلق بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریباً 6 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز کا ایک حصہ جاری کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے تاکہ ایران اپنی ضروریات کے مطابق انسانی اور دیگر بنیادی اشیاء کی خریداری کر سکے۔
دوسری جانب عرب میڈیا کی رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ مذاکرات میں ہر اہم پیش رفت کے ساتھ ایران کو مرحلہ وار مالی رقم جاری کرنے کی تجویز زیر غور رہی، تاہم اس حوالے سے مختلف رپورٹس میں رقم کے بارے میں الگ الگ دعوے سامنے آئے ہیں۔ ان دعوؤں کی تاحال متعلقہ فریقین کی جانب سے باضابطہ اور مشترکہ تصدیق نہیں کی گئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مذاکرات کا یہ سلسلہ کامیابی سے آگے بڑھتا ہے تو نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات میں بہتری آسکتی ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں بھی نمایاں کمی آنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔