کالام میں 6 جانیں لینے والا حادثہ کشتی کا انجن بند رکھنے سے پیش آیا،لواحقین نے مقدمہ درج کرا دیا

پولیس نے ایف آئی آر میں کشتی ڈرائیور لیاقت علی کو نامزد کرتے ہوئے اس پر غفلت، لاپرواہی اور نامناسب حفاظتی انتظامات کے الزامات عائد کیے ہی

July 2, 2026 · قومی

سوات کی مشہور سیف اللہ جھیل (مہوڈنڈ) میں پیش آنے والے المناک کشتی حادثے کے بعد پولیس نے واقعے کی ایف آئی آر درج کر لی ہے، جس میں کشتی ڈرائیور کو مبینہ غفلت اور لاپرواہی کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق مقدمہ نمبر 215/26 تھانہ کالام میں تعزیراتِ پاکستان کی متعلقہ دفعہ کے تحت درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ لاہور ڈیفنس کے رہائشی اور پاکستان نیوی کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر محمد عامر اپنی فیملی کے ہمراہ سیاحت کے لیے کالام آئے تھے اور مہوڈنڈ جھیل میں کشتی کی سیر کر رہے تھے۔

مدعی کے مطابق کشتی ڈرائیور لیاقت علی نے انجن درست طریقے سے چلائے بغیر مسافروں کو کشتی میں سوار کیا۔ انجن اسٹارٹ نہ ہونے کے دوران مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باعث کشتی الٹ گئی، جس کے نتیجے میں ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر محمد عامر سمیت خاندان کے متعدد افراد جھیل میں ڈوب گئے۔

ایف آئی آر کے مطابق حادثے میں محمد عامر، ان کی اہلیہ، دو بچوں اور خاندان کے دیگر افراد سمیت مجموعی طور پر چھ افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ ایک خاتون، بشریٰ، تاحال لاپتا ہیں۔ لاپتا خاتون کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

پولیس نے ایف آئی آر میں کشتی ڈرائیور لیاقت علی کو نامزد کرتے ہوئے اس پر غفلت، لاپرواہی اور نامناسب حفاظتی انتظامات کے الزامات عائد کیے ہیں۔ واقعے کی مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے، جبکہ پولیس شواہد اکٹھے کر کے قانونی کارروائی آگے بڑھا رہی ہے۔

ادھر ریسکیو اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں جھیل میں سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ لاپتا خاتون کا سراغ لگایا جا سکے، جبکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات بھی جاری ہیں۔