پاکستان بھارت امن کیلئے 100 شخصیات کا خط، بھارتی حکمران جماعت کو آف لگ گئی

خط میں دونوں ممالک سے سفارتی تعلقات، تجارت، ویزا سہولت، عوامی روابط اور تمام تصفیہ طلب مسائل پر جامع مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

July 2, 2026 · اہم خبریں

پاکستان اور بھارت کی ممتاز شخصیات کی جانب سے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے نام مذاکرات اور تعلقات کی بحالی کے لیے جاری مشترکہ اپیل کو بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مسترد کر دیا ہے۔

100 سے زائد سابق سفارتکاروں، سیاستدانوں، صحافیوں، ماہرین تعلیم اور سماجی کارکنوں کی جانب سے جاری خط میں دونوں ممالک سے سفارتی تعلقات، تجارت، ویزا سہولت، عوامی روابط اور تمام تصفیہ طلب مسائل پر جامع مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

تاہم بی جے پی کے سینئر ترجمان شہزاد پونے والا نے اس اپیل پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب بھارت دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، پاکستان سے مذاکرات کا مطالبہ مناسب نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس خط پر دستخط کرنے والی بعض شخصیات دہشت گردی کے معاملے پر نرم مؤقف رکھتی ہیں اور اس قسم کی اپیل ملک کی سکیورٹی فورسز اور شہداء کی قربانیوں کے منافی ہے۔

خط پر بھارت کی جانب سے سابق خفیہ ادارہ “را” کے سربراہ اے ایس دُلت، فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی، میر واعظ عمر فاروق اور منی شنکر ایئر سمیت متعدد شخصیات نے دستخط کیے، جبکہ پاکستان سے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر، اشرف جہانگیر قاضی، پروفیسر پرویز ہودبھائی، بینا سرور، شیما کرمانی اور دیگر نمایاں شخصیات شامل ہیں۔

اپیل میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی مکمل بحالی، ہائی کمشنرز کی تعیناتی، ویزا پابندیوں میں نرمی، تجارتی روابط کی بحالی اور تمام متنازع امور، بشمول جموں و کشمیر، پر بامعنی مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

بھارتی حکومت نے اس اپیل کو سرکاری مؤقف قرار دینے سے بھی انکار کیا ہے۔ بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مصری کا کہنا ہے کہ اس قسم کی ملاقاتوں اور اپیلوں میں شریک افراد اپنی ذاتی حیثیت میں شریک ہوتے ہیں اور وہ بھارتی حکومت کے مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتے۔

دوسری جانب پاکستان کی جانب سے اس مشترکہ اپیل یا بی جے پی کے ردعمل پر تاحال کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔