کراچی میں اسپتال سے 104 افراد کو ایڈز لگنے کا حکومتی اعتراف
ایک ہی سرنج کے بار بار استعمال سے 95 معصوم بچوں سمیت 104 افراد میں ایچ آئی وی منتقل، وفاقی ٹیم کی ذمہ داران اور اتائیوں کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش
اسلام آباد(افضل شاہ)کراچی کے ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی تحقیقات کے حوالے سے وفاقی وزارتِ صحت کی تیار کردہ انکوائری رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق ہسپتال عملے کی مجرمانہ غفلت کے باعث 95 معصوم بچوں سمیت 104 افراد مہلک وائرس کا شکار ہو چکے ہیں
وفاقی حکومت کی جانب سے کرائی جانے والی اس انکوائری میں یہ لرزہ خیز انکشاف ہوا ہے کہ اسپتال میں ایک ہی 10 سی سی کی سرنج مختلف مریضوں اور خصوصاً نومولود بچوں کو بار بار لگائی جاتی رہی، جس کے نتیجے میں ایچ آئی وی وائرس تیزی سے پھیلا۔ عالمی ادارہ صحت نے نومبر 2025 میں اس ہولناک صورتحال کی پہلی بار اطلاع دی تھی
جس کے بعد اسی ماہ ابتدائی طور پر 91 کیسز رپورٹ ہوئے اور اب یہ تعداد بڑھ کر 104 تک پہنچ چکی ہے، جس میں 95 بچے اور 9 بالغ افراد شامل ہیں۔ اس سنگین صورتحال پر متاثرہ بچوں کے والدین نے اسپتال کے نرسنگ اسٹاف پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے ہیں کہ نرسز سرنج کا بار بار استعمال کرتی تھیں اور انہیں ضائع نہیں کرتی تھیں، جبکہ اسپتال انتظامیہ نے بھی ان الزامات کی تردید کرنے کے بجائے صرف انفیکشن کنٹرول کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اور ڈپٹی نیشنل مینجر انسداد ایڈز پروگرام پر مشتمل وفاقی ٹیم نے ولیکا اسپتال، وہاں کے ای پی آئی سنٹر اور حفاظتی تدابیر کا معائنہ کیا اور عملے کو سرنجوں کی محفوظ تلفی کی تربیت دی۔ بعد ازاں وفاقی ٹیم نے اسپتال سے ملحقہ علاقے پٹھان کالونی کا بھی دورہ کیا جہاں یونین کمیٹی اور متاثرہ والدین سے ملاقاتوں کے دوران یہ تشویشناک انکشاف بھی ہوا کہ وہاں کی مقامی آبادی کی بڑی تعداد غیر قانونی اتائی ڈاکٹروں سے علاج کروا رہی ہے۔ انکوائری رپورٹ میں وفاقی ٹیم نے ولیکا اسپتال میں ایڈز کے پھیلاؤ کو کھلی غفلت قرار دیتے ہوئے معاملے کی اعلیٰ سطح پر آزادانہ انکوائری کرانے، غفلت کے ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری قانونی کارروائی کرنے اور پٹھان کالونی میں سرگرم اتائی ڈاکٹروں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی سفارش کی ہے۔