غیر ملکی خواتین کیس: رضا ڈار کے رابطے میں رہنے والا ’باس‘ کون؟
پولیس نے انہیں واقعے سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے بعد تھانے منتقل کیا، جہاں ان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔
لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور جنسی زیادتی کے مقدمے کی تحقیقات میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں تفتیش کا دائرہ ایک ایسے پراسرار شخص تک بھی وسیع کر دیا گیا ہے جسے مبینہ طور پر “باس” کے نام سے پکارا جاتا تھا۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ خواتین نے اپنے بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ انہیں ایئرپورٹ لے جانے کا تاثر دیا گیا، تاہم راستے میں انہیں شبہ ہوا کہ انہیں کسی اور مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس دوران مرکزی ملزم مبینہ طور پر ایک ایسے شخص سے رابطے میں تھا جسے “باس” کہا جا رہا تھا۔
بیانات کے مطابق ایک موقع پر گاڑی کو حادثہ پیش آیا، جس کے بعد دونوں خواتین وہاں سے نکل کر قریبی مقام پر پہنچیں اور مدد حاصل کرنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں پولیس موقع پر پہنچی اور خواتین کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ پولیس نے انہیں واقعے سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے بعد تھانے منتقل کیا، جہاں ان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔
دوسری جانب حکام کا مؤقف ہے کہ اطلاع موصول ہونے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خواتین کو بحفاظت بازیاب کرایا اور مقدمے کی تفتیش جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور شواہد کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔