امریکی فوج پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور،ایران کی فوج کو مٹا دیا۔ٹرمپ

ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں ہم جا نہ سکیں، ایسا کوئی ہدف نہیں جو ہم حاصل نہ کر سکیں۔

July 5, 2026 · بام دنیا

امریکہ کی آزادی کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے بیرونِ ملک امریکی کارروائیوں کا حوالہ دیا، جس میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو پکڑنے اور ایران کے خلاف حملوں کا ذکر تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’امریکہ کی فوج جتنی طاقت ور آج ہے، پہلے کبھی نہ تھی‘ اور ’ایران کی فوج کو مٹا کر رکھ دیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ایسا کوئی چیلنج نہیں جو امریکی پورا نہ کر سکیں، ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں ہم جا نہ سکیں، ایسا کوئی ہدف نہیں جو ہم حاصل نہ کر سکیں۔

امریکی آزادی کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر ٹرمپ کے خطاب میں ان کے روایتی موضوعات نمایاں رہے، جن میں امریکی کاروباری اور معاشی صلاحیتوں کی تعریف، ’کمیونسٹوں‘ کی مذمت اور اپنے دورِ حکومت کی کامیابیوں کا ذکر شامل تھا۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ فوج اور پولیس میں بھرتیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث اب ان شعبوں میں ملازمت حاصل کرنا ’مشکل‘ ہو گیا ہے۔

ٹرمپ نے انتخابی اصلاحات سے متعلق سیو امریکہ ایکٹ، پیدائشی شہریت کے حق کو ختم کرنے کی کوشش کرنے والے ایگزیکٹو آرڈر، اور امریکی آئین کی دوسری ترمیم کے تحفظ کا ذکر کیا، جو شہریوں کو ہتھیار رکھنے کا حق دیتی ہے۔

اپنے خطاب کے دوران ٹرمپ نے مختلف جنگوں میں حصہ لینے والے سابق امریکی فوجیوں کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔ تقریباً 40 منٹ کے خطاب کے اختتام پر ٹرمپ نے کہا کہ ’یہ تو امریکہ کے سنہری دور کی محض شروعات ہے۔‘

واشنگٹن میں امریکہ کی آزادی کی 250 ویں سالگرہ کی تقریبات طوفان اور گرج چمک کے باعث تاخیر کا شکار ہوئیں۔ خطاب کے آغاز میں خراب موسم کے باعث پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے حاضرین سے کہا: ’اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ آسان تھا تو ایسا نہیں تھا۔‘

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انھیں یہ تقریب کسی اور روز منعقد کرنے کا مشورہ دیا گیا، لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔