سیکورٹی خدشات کے باعث مجتبیٰ خامنہ ای منظرِعام سے غائب

ایرانی حکام کے مطابق نئےسپریم لیڈر والد کی آخری رسومات میں بھی شریک نہیں ہوں گے

July 5, 2026 · بام دنیا

ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی فروری میں مبینہ امریکی۔اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد سے اب تک منظرِ عام پر نہیں آئے۔

ایرانی حکام کے مطابق 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی جاری چھ روزہ آخری رسومات میں بھی شرکت نہیں کریں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مسلسل دھمکیوں کے پیشِ نظر ان کی سیکیورٹی کو لاحق خدشات کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق جس حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوئے، اس میں مجتبیٰ خامنہ ای بھی زخمی ہوئے تھے، جبکہ ان کی اہلیہ، بہن، بہنوئی اور 14 ماہ کی بھانجی سمیت خاندان کے چار دیگر افراد بھی شہید ہوئے تھے۔

اگرچہ مجتبیٰ خامنہ ای عوامی سطح پر نظر نہیں آئے، تاہم ایرانی سرکاری میڈیا پر ان سے منسوب متعدد تحریری بیانات جاری کیے گئے ہیں۔

18 جون کو ایرانی عوام کے نام اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایران اور امریکہ کے صدور کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) سے متعلق ان کی رائے مختلف تھی، تاہم اعلیٰ ایرانی حکام کی یقین دہانی کے بعد انہوں نے اس کی منظوری دی کیونکہ انہیں بتایا گیا تھا کہ اس سے ’’ایرانی قوم اور مزاحمتی محاذ کے حقوق‘‘ کا تحفظ ہوگا۔

28 جون کو جاری ایک اور تحریری بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں، خصوصاً اپنے والد کے قتل، پر انصاف اور جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ “یہ یقینی ہے کہ ان جرائم کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر ان کے جرائم کی سزا دی جائے گی۔