اسرائیل میں رواں سال 140 سے زائد فلسطینی شہری شہید ہوئے
اسرائیل میں فلسطینی شہریوں کے قتل کے واقعات میں 12 فیصد اضافہ
اسرائیل میں رواں سال اب تک 140 سے زائد فلسطینی شہری مختلف پرتشدد واقعات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں جرائم پیشہ گروہوں کی کارروائیوں، خاندانی دشمنیوں، اسلحے تک آسان رسائی اور پولیس کی ناکافی کارروائی کے باعث ہوئیں، جس پر فلسطینی برادری شدید تحفظات کا اظہار کر رہی ہے۔
ابراہم انیشی ایٹوز نامی غیر سرکاری تنظیم کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ یہ تعداد گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 12 فیصد زیادہ ہے۔ یہ تنظیم اسرائیل کی یہودی اور عرب آبادی کے درمیان پرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے کام کرتی ہے۔
تازہ واقعات میں 28 جون کو فائرنگ اور کار بم حملوں کے سلسلے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق اگر قتل کی یہی رفتار برقرار رہی تو رواں سال ہلاکتوں کی تعداد 2025 میں ریکارڈ ہونے والی 252 اموات سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کی ایک کروڑ دو لاکھ آبادی میں تقریباً 21 فیصد فلسطینی شہری شامل ہیں۔
فلسطینی برادری کا کہنا ہے کہ انہیں یہودی اکثریت کے مقابلے میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے، جبکہ ان کا الزام ہے کہ اسرائیلی حکام تشدد کے واقعات کی مؤثر اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے میں ناکام رہے ہیں۔