چھاپے کے دوران پتہ چلا ، ملزم نائب وزیراعظم کا رشتہ دار ہے ،ڈی آئی جی آپریشنز
اغوا میں استعمال ہونے والی گاڑی کی شناخت کر لی گئی ، فیصل کامران کی پریس کانفرنس
فائل فوٹو
لاہور: ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے کہا ہے کہ لاہور میں 2 غیر ملکی خواتین کے اغوا کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جو 29 جون کو لاہور پہنچتے ہی اغوا ہو گئیں۔
فیصل کامران کا کہنا ہے کہ تفتیش میں کچھ افراد کا تعلق سرگودھا اور دیگر علاقوں سے سامنے آیا، جبکہ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے گاڑی کی نقل و حرکت کا مکمل ریکارڈ حاصل کیا گیا۔یر ملکی خواتین کے اغوا کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جو 29 جون کو لاہور پہنچتے ہی اغوا ہو گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران اغوا میں استعمال ہونے والی گاڑی کی شناخت کر لی گئی اور معلوم کیا گیا کہ وہ کس کے نام پر رجسٹرڈ تھی تاہم گاڑی کے مالک کا موبائل فون بند تھا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے معاملے کا فوری نوٹس لیا، جس کے بعد پولیس نے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے تحقیقات کو تیز کیا۔
ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ جولائی میں غیر ملکی لڑکیوں کے اغوا کی اطلاع موصول ہوتے ہی کارروائی شروع کر دی گئی۔
فیصل کامران نے کہا کہ متاثرہ لڑکی نے اپنے والد کو گاڑی کی تصویر بھیجی، جس کے نمبر کی مدد سے گاڑی کو ٹریس کیا گیا، پولیس کے پاس پہلے ہی یہ معلومات موجود تھیں کہ لڑکیوں کو کس نے بلایا اور وہ کس کے کہنے پر پاکستان آئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تفتیش کے دوران ملزمان کا تعلق سرگودھا اور دیگر علاقوں سے سامنے آیا، جس کے بعد سرگودھا سمیت مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ دونوں لڑکیاں جون میں اسلام آباد پہنچیں اور بعد ازاں لاہور آئیں، جبکہ گاڑی کی نقل و حرکت کا مکمل ریکارڈ بھی حاصل کیا گیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ ایک گھر پر چھاپے کے دوران اہل خانہ نے بتایا کہ ملزم نائب وزیراعظم کے رشتہ دار ہیں، تاہم بڑی شخصیت سے تعلق سامنے آنے کے باوجود اعلیٰ پولیس افسران نے قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت دی۔
فیصل کامران کا کہنا تھا گاڑی کی لوکیشن کی مدد سے رضا ڈار کو بھی ٹریس کیا گیا اور تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ایک بااثر شخصیت کا قریبی رشتہ دار بھی واقعے میں ملوث ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل تحقیقات کے نتیجے میں دونوں غیر ملکی لڑکیوں کو بحفاظت بازیاب کرایا گیا۔ پولیس نے پہلے اسپین کے سفارتخانے سے رابطہ کیا، جہاں سے معلوم ہوا کہ ایک لڑکی کا تعلق وینزویلا سے ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا تھا کہ بعد ازاں نیدرلینڈز کے سفارتخانے سے بھی رابطہ کیا گیا۔ سفارتی حکام کی یقین دہانی کے بعد دونوں لڑکیاں میڈیکل معائنے اور پھر دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرانے پر آمادہ ہوئیں۔
فیصل کامران نے کہا کہ دونوں لڑکیوں کے بیانات عدالت کے روبرو ریکارڈ کیے گئے، اس موقع پر نیدرلینڈز کے قونصلر بھی موجود تھے۔ تمام قانونی تقاضے بروقت مکمل کیے گئے اور بعد ازاں سفارتخانوں کی درخواست پر دونوں لڑکیوں کو بحفاظت ایئرپورٹ پہنچایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں غیر ملکی لڑکیوں نے پولیس کی تحقیقات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کے بعد تحقیقات میں مزید پیش رفت ہوئی اور اہم برآمدگیاں بھی کی گئیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مجسٹریٹ کا گھر چند روز قبل ہی دوسری جگہ منتقل ہو چکا تھا، جبکہ مجسٹریٹ کے گھر میں داخل ہونے پر متعلقہ ایس ایچ او کو معطل کر دیا گیا۔