فٹبال ورلڈ کپ میں ٹرمپ کی مدد کے باوجود امریکہ بیلجیم سے شکست کھا گیا

جمعہ کو کوراٹر فائنل میں بیلجئیم کا مقابلہ اسپین سے ہوگا

July 7, 2026 · اسپورٹس

بیلجیم کی فٹبال ٹیم نے امریکہ کو 4-1 سے شکست دے کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا ہے۔

بیلجیم نے ایک منظم، جارحانہ اور متاثر کن کھیل پیش کرتے ہوئے 11 ویں منٹ میں پہلا گول کیا۔

تاہم امریکہ کے اٹیکنگ مڈفیلڈر ملک ٹِلمین اور بائر لیورکوزن نے ایک فری کِک سے امریکہ کے لیے گول کر دیا اور دو منٹ کے لیے مقابلہ برابر کر دیا۔

بیلجیم نے بہت جلد ایک اور حملے میں دوسرا گول کر لیا اور یوں پہلے ہاف کے اختتام پر اسے برتری حاصل تھی۔

بلیجیم نے دوسرے ہاف میں بھی دباؤ برقرار رکھا اور تیسرا گول کیا۔

اضافی وقت میں لوکاکو نے بیلجیم کا چوتھا گول بھی کر دیا۔ اس طرح بیلجیم نے کوارٹر فائنل مرحلے میں جگہ بنا لی، جہاں جمعے کو اس کا مقابلہ سپین سے ہو گا۔

آج کا میچ فیفا کے اس غیر معمولی فیصلے کے باعث بھی توجہ کا مرکز رہا جس کے تحت امریکہ کے ایک سٹرائیکر فولارن بالوگن پر عائد جرمانہ معاف کر دیا گیا تھا، اور کہا گیا کہ اس فیصلے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارش بھی شامل تھی۔
فیفا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی براہِ راست ‘مداخلت’ کے بعد امریکی سٹرائیکر فلورین بالوگن کا ریڈ کارڈ معطل کر دیا تھا۔
دریں اثنا فٹبال کی دنیا اس وقت ایک بڑے طوفان کی زد میں ہے جب فیفا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی براہِ راست ‘مداخلت’ کے بعد امریکی سٹرائیکر فلورین بالوگن کا ریڈ کارڈ معطل کر دیا ہے۔ اس حیران کن فیصلے کے بعد بالوگن اب بیلجیئم کے خلاف راؤنڈ آف 16 کے زندگی اور موت کے میچ میں ایکشن میں نظر آئیں گے۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ 2 جولائی کو بوسنیا کے خلاف میچ میں فلورین بالوگن نے پہلے ہاف میں شاندار گول کر کے امریکہ کو ہیرو بنا دیا۔ لیکن دوسرے ہاف میں ایک مبینہ فاؤل پر ریفری نے انہیں ‘ریڈ کارڈ’ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا۔ قانون کے مطابق ان پر اگلے میچ کی پابندی لگ چکی تھی اور امریکی شائقین اداس تھے۔
مگر کہانی میں ٹوئسٹ تب آیا جب وائٹ ہاؤس نے اس معاملے میں انٹری ماری۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیفا کے سربراہ جانی انفینٹینو کو فون گھما دیا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا، “وہ کوئی فاؤل نہیں تھا، بس دو کھلاڑی آپس میں ٹکرا گئے تھے۔ ہمارے لڑکے کو کھیلنے دیا جائے!”

صدر ٹرمپ کے فون کے بعد فیفا نے جادوئی پھرتی دکھائی۔ فیفا کی ڈسپلنری کمیٹی نے اپنے قوانین کی ایک خاص شق (آرٹیکل 27) کا استعمال کرتے ہوئے بالوگن کی پابندی کو ایک سال کے لیے ‘مؤخر’ کر دیا۔ یعنی ریڈ کارڈ تو اپنی جگہ رہا، لیکن بالوگن کو بیلجیئم کے خلاف کھیلنے کا گرین سگنل مل گیا۔

اس فیصلے نے یورپی فٹبال میں آگ لگا دی ہے۔ بیلجیئم کی فٹبال ایسوسی ایشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فٹبال کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے جہاں سیاسی دباؤ پر قوانین بدل دیے گئے۔ یورپی فٹبال تنظیم (UEFA) نے بھی اسے ‘سرخ لکیر’ عبور کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
دوسری طرف امریکی ٹیم اور شائقین اس فیصلے پر جشن منا رہے ہیں، کیونکہ بیلجیئم جیسی مضبوط ٹیم کو ہرانے کے لیے انہیں اپنے سٹار سٹرائیکر کی شدید ضرورت تھی۔