اسرائیلی وزیر داخلہ کا فلسطینی قیدیوں کو بھوکا رکھنے کا اعتراف

فلسطینی قیدی موٹے آتے ہیں اور دبلے ہو کر جاتے ہیں اسرائیلی وزیر کا فخر کا اظہار

July 7, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

یروشلم : اسرائیل کے انتہا پسند اور دائیں بازو کے وزیرِ داخلہ امور (نیشنل سیکیورٹی منسٹر) اتامار بین گویر نے جیلوں میں قید فلسطینیوں کو دانستہ طور پر بھوکا رکھنے کا اعتراف کرتے ہوئے اس پر فخر کا اظہار کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیل میں منعقدہ ایک سیمینار کی منظرِ عام پر آنے والی ویڈیو میں گفتگو کرتے ہوئے متعصب اسرائیلی وزیر اتامار بین گویر نے انسانی حقوق کے قوانین کا تمسخر اڑایا اور اعتراف کیا کہ ان کی پالیسیوں کے باعث فلسطینی قیدی فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “مجھ سے مطالبہ کیا جاتا تھا کہ میں ان دہشت گردوں کو سینڈوچ فراہم کروں۔ پہلے یہ قید خانوں سے موٹے ہو کر نکلتے تھے، لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ یہ موٹے ہو کر اندر آتے ہیں اور دبلے پتلے ہو کر باہر جاتے ہیں۔ قیدیوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہونا چاہیے۔”

واضح رہے کہ انتہا پسند آباد کار اتامار بین گویر پر پہلے بھی اسرائیلی حراستی مراکز میں فلسطینیوں اور غزہ کا محاصرہ توڑنے کی کوشش کرنے والے بین الاقوامی امدادی قافلوں (فلوٹیلا) کے غیر ملکی ارکان پر تشدد اور غیر انسانی سلوک کے سنگین الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔

دوسری جانب، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر جاری ایک بیان میں بین گویر نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی حکومت نے داخلی سیکیورٹی ایجنسی ‘شن بیت’ کے لیے 500 ملین شیکل (تقریباً 1.6 ملین ڈالر) کا خصوصی بجٹ منظور کر لیا ہے۔ یہ رقم عرب آبادی والے علاقوں میں جرائم کے خاتمے کے نام پر ایک نیا مخصوص شعبہ قائم کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عرب شہریوں پر مزید سختیاں کرنے کا منصوبہ قرار دیا ہے۔