مصر کے کوچ اور کھلاڑی کے ریفری پر جانبداری کے الزامات، میچ کے بعد شدید احتجاج
ان کی ٹیم نے بہتر کھیل پیش کیا، تاہم ریفری کے فیصلوں نے میچ کا رخ بدل دیا۔حسام حسن
فیفا ورلڈ کپ کے ایک میچ کے بعد مصر کی ٹیم کے ہیڈ کوچ حسام حسن اور کھلاڑی مصطفیٰ زیکو نے ریفری کے فیصلوں پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے جانبداری کے الزامات عائد کیے ہیں۔
بعد از میچ گفتگو میں حسام حسن نے دعویٰ کیا کہ ان کی ٹیم نے بہتر کھیل پیش کیا، تاہم ریفری کے فیصلوں نے میچ کا رخ بدل دیا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مقابلے کے دوران بعض فیصلے ارجنٹینا کے حق میں گئے۔
دوسری جانب مصری کھلاڑی مصطفیٰ زیکو نے بھی ریفری کے فیصلوں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ارجنٹینا کے آخری گول سے قبل پنالٹی ایریا میں ان کی ٹیم کے کھلاڑیوں کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک نہیں کیا گیا۔ انہوں نے گفتگو کے اختتام پر طنزیہ انداز میں “شاباش ریفری” کہا اور انٹرویو ادھورا چھوڑ دیا۔

میچ کے دوران حسام حسن کی جانب سے ہاتھوں سے احتجاجی اشارہ کرنے کی ویڈیوز اور تصاویر بھی سوشل میڈیا پر زیرِ گردش رہیں۔ رپورٹس کے مطابق اس عمل پر ریفری نے انہیں پیلا کارڈ بھی دکھایا۔
مصری ٹیم کی جانب سے سامنے آنے والے ان بیانات اور احتجاج نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی ہے، جہاں شائقین کی جانب سے مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
تاہم فیفا یا میچ آفیشلز کی جانب سے ان الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ میچ فکسنگ یا جانبداری کے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے
۔