عباس عراقچی کا امریکہ پر معاہدہ توڑنے کا الزام

موجودہ صورتحال میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے اور امریکہ کو اپنے اقدامات کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔

July 8, 2026 · بام دنیا

 تہران: ایران نے حالیہ امریکی حملوں اور تیل کی فروخت پر پابندیوں کی بحالی کے بعد امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کے بعض اہم حصوں کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن نے معاہدے کی روح کی خلاف ورزی کی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران پر امریکی حملوں، ایرانی تیل کی فروخت پر دوبارہ پابندیاں عائد کیے جانے اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کے باعث جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمت کے بنیادی نکات متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے امریکہ پر مفاہمتی یادداشت کی کھلی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے دفاع سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹے گا۔

عباس عراقچی نے خلیجی خطے کے ان ممالک کو بھی خبردار کیا جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران پر ان اڈوں سے حملہ کیا گیا تو تہران اپنے دفاع کے حق کے تحت انہی مقامات کو نشانہ بنائے گا جہاں سے کارروائی کی جائے گی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے اور امریکہ کو اپنے اقدامات کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں امریکہ نے ایران میں متعدد اہداف پر حملے کیے، ایرانی تیل کی فروخت پر پابندیاں دوبارہ نافذ کیں، جبکہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے تناظر میں بھی خطے میں تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے بعد تہران نے واشنگٹن کے ساتھ طے شدہ مفاہمت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔